Share this link via
Personality Websites!
نیکیوں سے بھری زِندگی گزارنے کے مدنی پھول دیکھ کر مجھے بہت خوشی ہوئی ، اس رسالے کی صُورت میں شیخِ طریقت، امیرِ اہلسنت دَامَتْ بَرَکَاتُہُمُ الْعَالِیَہ کی اِصْلاحِ اُمَّت کے لئے کُڑھن دیکھ کر میں نے ہاتھوں ہاتھ بیعت کے لئے نام دے دیا اور عطّاری بَن گیا ، وقت کے ولئ کامِل سے نسبت کیا ہوئی ، دِل گُنَاہوں سے بیزار اور نیکیوں کی طرف مائل ہو گیا ، میں نے گُنَاہوں سے توبہ کی اور دعوتِ اسلامی کے دینی ماحول کو دِل وجان سے اپنا لیا ، اس کی برکت سے میرے اَخلاق سَنْوَرنے لگے ، میری اس تبدیلی کا میرے گھر والوں پر بھی اچھا اَثر ہوا ، الحمد للہ ! آہستہ آہستہ پورا گھرانہ ہی قادری ، رضوی ، عطّاری ہو گیا ، گھر میں نمازوں کی پابندی شروع ہو گئی ، فلمیں ڈرامے ، گانے باجے بند ہو گئے اور گُنَاہوں بھرے چینلز کی جگہ مدنی چینل چلنے لگ گیا۔([1])
خوب مَدنی قافِلوں کی دھوم ہو نیک ہو امَّت اے نانائے حسین
’’مَدنی اِنعامات‘‘ کی ہو ریل پیل نیک ہو امَّت اے نانائے حسین([2])
پیارے اسلامی بھائیو ! دعوتِ اسلامی کے دینی ماحول میں مدنی انعامات کو اب نیک اَعْمَال کہا جاتا ہے۔
صَلُّوْا عَلَی الْحَبیب! صَلَّی اللّٰہُ عَلٰی مُحَمَّد
پیارے اسلامی بھائیو ! بیان کو اختتام کی طرف لاتے ہوئے سُنّت کی فضیلت اور چند آدابِ زندگی بیان کرنے کی سَعَادت حاصِل کرتا ہوں۔ تاجدارِ رسالت ، شہنشاہِ نبوت صلی اللہ عَلَیْہِ وَ آلِہٖ وَسَلَّم
BOOK TOPIC
©Copyright 2026 by I.T. Department of Dawat-e-Islami