Share this link via
Personality Websites!
سیِّدی قطبِ مدینہ رَحمۃُ اللہ عَلَیْہ فرماتے ہیں : جب میں مدینۂ مُنَوَّرَہ حاضِر ہوا تو شُروع کے دنوں میں ایسا وقت بھی آیا کہ مجھ پر 7 دن کا فاقہ گزرا ۔ 7ویں روز جب میں بھوک سے نِڈھال ہوگیا تو میرے پاس ایک پُرہیبت بُزُرگ تشریف لائے اور انہوں نے مجھے 3 مشکیزے دیئے ایک میں شہد ، دوسرے میں آٹا اور تیسرے میں گھی تھا ۔ مشکیزے دے کر یہ کہتے ہوئے تشریف لے گئے کہ میں ابھی بازار سے مزید اشیا لاتا ہوں ۔
تھوڑی دیر بعد چائے کا ڈِبّا اور چینی وغیرہ لاکر مجھے دیئے اور فوراً واپَس چلے گئے ۔ میں پیچھے لپکا کہ ان سے تفصیلات معلوم کروں مگر وہ غائب ہوچکے تھے ۔ قطبِ مدینہ رَحمۃُ اللہ عَلَیْہ کی خدمت میں عَرْض کیا گیا : آپ کے خیال میں وہ کون تھے ؟ انہوں نے فرمایا : میرے گمان میں وہ مدینے کے سلطان ،رحمتِ عالمیان صلی اللہ عَلَیْہِ وَ آلِہٖ وَسَلَّم کے چچا جان سیِّدُا لشُّہَدا حضرت حمزہ رَضِیَ اللہ عنہ تھے کیونکہ مدینۂ مُنَوَّرَہ کی وِلایت انہی کے سِپرد ہے۔([1])
اے عاشقانِ رسول ! حضرتِ سیِّدی قطبِ مدینہ رَحمۃُ اللہ عَلَیْہ حضرت حمزہ رَضِیَ اللہ عنہ سے وا لہانہ عقیدت رکھتے تھے اور ہر سال17 رَمَضانُ الْمبارَک کو حضرت حمزہ رَضِیَ اللہ عنہ کاعُرس شریف مناتے اور ایک روزہ حضرت حمزہ رَضِیَ اللہ عنہ کے مزارِ پُرانوار پر افطار فرماتے تھے ۔ ([2])
4 ذُوالحجِّۃِ الْحرام1401ھ (2اکتوبر1981ء)بروز جُمعہ مسجدنَبَوِی شریف کے
BOOK TOPIC
©Copyright 2026 by I.T. Department of Dawat-e-Islami