Share this link via
Personality Websites!
اللہ پاک پر بھروسہ رکھتا ہے اور یہی وہ درجہ ہے کہ جب انسان کی حضرت ابراہیم عَلَیْہِ السَّلَام کے ساتھ نسبت درست ہوتی ہے (یعنی اس درجہ پر پہنچ کر یہ کہا جا سکتا ہے کہ یہ بندہ سُنّتِ ابراہیمی پر عَمَل کرنے والا ہے) ، اس وقت اللہ پاک بندے کی بےحساب مدد فرماتا ہے اور آخرت میں اسے بےحساب نعمتوں سے نوازتا ہے۔ ([1])
اے عاشقانِ رسول ! یہ ہے قربانی کا اَصْل سبق کہ ہم اللہ پاک کی کامِل اطاعت کریں ، کیا؟ کیوں؟ کیسے؟ کو نہ دیکھیں ، عقل کے گھوڑے نہ دوڑائیں بلکہ آنکھیں بند کر کےحکمِ شریعت پر عَمَل کریں ، نفسانی خواہشات سے بچیں ، نفسِ اَمَّارہ کی خباثتوں سے بچیں ، اپنی اِصْلاح کریں یہاں تک کہ نفسِ مُطْمَئِنَّہ حاصِل کرنے میں کامیاب ہو جائیں۔
محیط دِل پہ ہوا ہائے نفسِ اَمَّارہ دِماغ پر مرے ابلیس چھا گیا یارَبّ!
رہائی مجھ کو ملے کاش ! نفس و شیطاں سے ترے حبیب کا دیتا ہوں واسطہ یارَبّ!
حدیثِ پاک میں ہے : لَا یُؤْمِنُ اَحَدُکُمْ حَتّیٰ یَکُونَ ہَوَاہُ تَبِعًا لِمَا جِئْتُ بِہٖ تم میں کوئی بندہ اس وقت تک (کامِل) مؤمن نہیں ہو سکتا ، جب تک اس کی خواہشات میرے لائے ہوئے (دِین) کے تابِع نہ ہو جائیں۔ ([2])
عُلَمائے کرام اس حدیثِ پاک کی شرح میں فرماتے ہیں : بندے پر لازِ م ہے کہ اللہ و رسول سے ایسی محبّت کرے کہ وہ محبّت اسے اللہ پاک اور اس کے پیارے محبوب صلی اللہ عَلَیْہِ وَ آلِہٖ وَسَلَّم
BOOK TOPIC
©Copyright 2026 by I.T. Department of Dawat-e-Islami