Share this link via
Personality Websites!
اے عاشقانِ رسول ! یہ ہے جذبۂ اطاعت ، جذبۂ جانثاری ، جذبۂ وفاداری ، جس طرح جانور ذَبَح کرنا سُنّتِ ابراہیمی ہے ، اسی طرح یہ جذبۂ اطاعت و فرمانبرداری ، اپنے آپ کو مکمل طور پر اللہ پاک کے سِپُرد کر دینا ، یہ بھی حضرت ابراہیم عَلَیْہِ السَّلَام کا ہی مبارک طریقہ ہے۔ یقیناً حضرت ابراہیم عَلَیْہِ السَّلَام اللہ پاک کے نبی ہیں ، ہم اُن کے برابر نہیں ہو سکتے مگر جس طرح ہم جانور قربان کر کے حضرت ابراہیم عَلَیْہِ السَّلَام کی سُنّت ادا کرتے ہیں ، یونہی خود کو اللہ پاک کے سِپُرد کر کے،خود کو مکمل طور پر اللہ پاک کی اطاعت میں لگا دینے کی بھی کوشش کرنی چاہئے۔
حضرت ابراہیم عَلَیْہِ السَّلَام کے ساتھ نسبت کب درست ہو گی؟
غوثِ اعظم شیخ عبد القادر جیلانی رَحمۃُ اللہ عَلَیْہ فرماتے ہیں : مؤمن بندہ لِمَ (یعنی کیوں)؟ اور کَیْفَ (یعنی کیسے)؟ نہیں جانتا (یعنی بندۂ مؤمن یہ نہیں دیکھتا کہ حکم کیوں دیا گیا ، کیسے دیا گیا بلکہ ایک مسلمان صِرْف یہ دیکھتا ہے کہ حکم کس نے دیا؟ اللہ پاک نے حکم دیا ہے ، اس کے محبوب صلی اللہ عَلَیْہِ وَ آلِہٖ وَسَلَّم نے حکم دیا ہے تو بَس اب بندہ اس کو بجا لاتا ، اس پر اعتراض نہیں کرتا ، چاہے سر دھڑ کی بازی ہی کیوں نہ لگانی پڑے ، وہ اللہ و رسول کے حکم پر عَمَل کرتا ہے)۔
غوثِ پاک رَحمۃُ اللہ عَلَیْہ مزید فرماتے ہیں : نفسِ اَمّارہ شَر ہی شَر ہے ، اگر آدمی مجاہدہ کرے (یعنی خود کو مشقت میں ڈالے ، ہر حال میں اللہ و رسول کے حکم پر عمل کرے تو آہستہ آہستہ) نفسِ اَمَّارہ نفسِ مُطْمَئِنَّہ بن جاتا ہے ، جب نفسِ اَمَّارہ نفسِ مُطْمَئِنَّہ ہو جاتا ہے ، اب یہ صُورت ہوتی ہے کہ آدمی اطاعت کرتا ہے ، گُنَاہوں سے بچتا ہے ، اس درجہ پر آ کر نفسِ انسانی خیر ہی خیر ہو جاتا ہے ، اس وقت انسان نفسانی خواہشات سے بچتا ہے ، پُورے طور پر
BOOK TOPIC
©Copyright 2026 by I.T. Department of Dawat-e-Islami