Share this link via
Personality Websites!
اللہ اکبر ! اب حضرت ابراہیم عَلَیْہِ السَّلَام نے اپنے شہزادے کو ساتھ لیا ، وادیٔ منیٰ میں تشریف لائے ، بیٹے کو لٹا دیا ، گلے پر چُھری رکھ دی ، روایات میں آتا ہے : چھری بہت تیز تھی مگر حضرت اسماعیل عَلَیْہِ السَّلَام کے گلے پر چلائی جاتی تو چلتی نہیں تھی۔
اللہ پاک کا حکم پُورا کرنے میں غیر اختیاری طَور پر دیر ہو رہی تھی ، حضرت ابراہیم عَلَیْہِ السَّلَام کا فرمانبردار دِل اس تاخیر کو قبول نہیں کر سکتا تھا ، آپ نے چھری کو تیز کیا ، پھر چلائی ، نہ چلی ، پھر تیز کیا ، چلائی ، پھر نہ چلی ، تین بار ایسا ہی ہوا۔ حضرت ابراہیم عَلَیْہِ السَّلَام جوشِ فرمانبرداری میں بار بار چھری چلانے کی کوشش کر رہے تھے ، اسی وقت حضرت جبریلِ امین عَلَیْہِ السَّلَام جنّتی مینڈھا لے کر حاضِر ہوئے اور حضرت ابراہیم و اسماعیل عَلَیْہِما السَّلَام کو قربانی قبول ہونے کی خوشخبری سُنا دی گئی۔ ([1])
یہ آساں ہے کہ انساں چھوڑ دے سب مال و زَرْ اپنا
یہ آساں ہے کہ انساں چھوڑ دے تختِ سلیمانی
یہ آساں ہے کہ انساں رنج اُٹھائے ، سختیاں جھیلے
یہ آساں ہے کہ اپنی جان بھی دے دے بہ آسانی
یہ سب آسان سے بھی آسان تَر ہے ، جانِ من لیکن
بہت مشکل ہے اپنے ہاتھ سے بیٹے کی قربانی
کِیا بیٹے کو قرباں راہِ حق میں اپنے ہاتھوں سے
نہیں دُنیا میں کوئی بھی خلیل اللہ کا ثانی
BOOK TOPIC
©Copyright 2026 by I.T. Department of Dawat-e-Islami