Share this link via
Personality Websites!
کوئی شکوہ آنا تو دُور کی بات ، دِل میں بھی کوئی خیال نہیں گزرا ، حضرت ابراہیم عَلَیْہِ السَّلَام نے اپنے رَبِّ کریم کے حکم پر سرِ تسلیم خم کیا اور اپنے دُودھ پیتے ننھے شہزادے کو اور ان کی والدہ کو تنہا مکہ مکرمہ کی بےآباد وادی میں چھوڑ کر واپس تشریف لے آئے۔ ([1])
اللہ ! اللہ ! ...
ابھی عشق کے امتحاں اور بھی ہیں
جب حضرت اسماعیل عَلَیْہِ السَّلَام کی عمر مبارک کم وبیش 13 سال تھی ، حضرت ابراہیم عَلَیْہِ السَّلَام نے خواب دیکھا کہ اپنے بیٹے کو ذَبَح کر رہے ہیں ، انبیائے کرام عَلَیْہم السَّلَام کے خواب وَحی ہوتے ہیں،لہٰذاحضرت ابراہیم عَلَیْہِ السَّلَام خواب کے ذریعے دئیے گئے اس حکمِ خُداوندی پر عَمَل کرنے کےلئے مکہ مکرمہ پہنچے ، حضرت اسماعیل عَلَیْہِ السَّلَام کو خواب سُنایا ، فرمانبردار بیٹے نے عَرْض کیا :
قَالَ یٰۤاَبَتِ افْعَلْ مَا تُؤْمَرُ٘-سَتَجِدُنِیْۤ اِنْ شَآءَ اللّٰهُ مِنَ الصّٰبِرِیْنَ(۱۰۲)
(پارہ : 23،سورۂ صٰفّٰت : 102)
ترجَمہ کنزُ العرفان : بیٹے نے کہا : اے میرے باپ ! آپ وہی کریں جس کا آپ کو حکم دیاجارہا ہے۔ اِنْ شَاءَاللہ عنقریب آپ مجھے صبر کرنے والوں میں سے پائیں گے۔([2])
سُبْحٰنَ اللہ ! بیٹا ہو تو ایسا ہو... ! فرمانبرداری ہو تو ایسی ہو...!!
یہ فیضانِ نظر تھا یا مکتب کی کرامت تھی سکھائے کس نے اسماعیل کو آدابِ فرزندی؟
BOOK TOPIC
©Copyright 2026 by I.T. Department of Dawat-e-Islami