Share this link via
Personality Websites!
اللہ پاک کا ذِکْر ہوتا ہے تو ہیبت و جلال سے ان کے دِل ڈرنے لگتے ہیں ، اللہ پاک کے عذاب کا خوف ان کے اعضا سے ظاہِر ہونے لگتا ہے ، انہیں دُنیا میں جو مصیبت پہنچے ، اس پر صبر کرتے ہیں ، نماز قائِم کرتے ہیں اور اللہ پاک کے دئیے ہوئے رِزْق میں سے صدقہ و خیرات کرتے ہیں۔ ([1])
اے عاشقانِ رسول!غور کا مقام ہے ! ہم قربانی تو کرتے ہیں ، مہنگے سے مہنگا جانور خرید کر بڑے ذوق وشوق کے ساتھ قربانی کرتے ہیں ، جب جانور لاتے ہیں تو گلی،محلے میں چرچا ہو جاتا ہے کہ فلاں اتنا مہنگا جانور لایا ، رشتے داروں کو ، پڑوسیوں کو ، دوستوں کو بتایا جاتا ہے مگر غور کیجئے ! ہم میں سے جنّت کی خوشخبری کے حق دار بننے والے یعنی مُخْبِت کتنے ہیں؟ اللہ پاک کا ذِکْر کرنے والے ، ذِکْرُ اللہ سُن کر مچلنے والے ، خوفِ خُدا کے سبب کانپنے والے ، نمازیں پڑھنے والے ، راہِ خُدا میں دِل کھول کر صدقہ خیرات کرنے والے کتنے ہیں؟
آہ ! افسوس ! ہم قربانی تو کرتے ہیں ، یہ بھی بہت اچھا کام ہے ، نیک کام ہے ، جن پر قربانی واجِب ہے ، ان کو تو کرنی ہی ہو گی ، اس کے بغیر چھٹکارا نہیں مگر قربانی کا اَصْل مقصد کیا ہے؟ قربانی ہمیں درس کیا دیتی ہے؟ یہ مقصد ہم کب پُورا کریں گے؟
آہ طغیانیاں گُنَاہوں کی پار نیّا مری لگا یارَبّ!
نفس و شیطان ہو گئے غالِب ان کے چُنگل سے تُو چھڑا یارَبّ!
نیم جاں کر دیا گُنَاہوں نے مرضِ عصیاں سے دے شفا یارَبّ ! ([2])
BOOK TOPIC
©Copyright 2026 by I.T. Department of Dawat-e-Islami