Share this link via
Personality Websites!
کرے ،پھر ان کا گوشت کھائے ، پھر اس گوشت سے جو طاقت حاصل ہو ، اس طاقت کو گناہوں میں صَرْف کر دے تو اس نے گویا معاملہ الٹا کر دیا ، شکر کی بجائے ناشکری کی ، ایسے نادان سے تو جانور بہت درجے بہتر ہیں ۔ ([1])
اے عاشقانِ رسول ! مقامِ عِبْرت ہے!یہ جانور جو قربانی کے روز ذبح کیے جاتے ہیں،ان کا گوشت امیر ، غریب سب کھاتے ہیں،حق یہ بنتا ہے کہ یہ گوشت کھا کر جو توانائی حاصل ہو*اس سے ہمارا ذِکْرُ اللہ کرنے کا ذہن بنے* نیکیوں کی طرف دل راغب ہو* اُس طاقت کو نماز کے لئے صرف کیا جائے* تلاوتِ قرآن پر صرف کیا جائے* اس طاقت کو نیکی کی دعوت عام کرنے میں صرف کیا جائے* اس طاقت کو نیک اعمال پر صرف کیا جائے مگر افسوس ! ہمارے ہاں ایک تعداد ہے جو مہنگے سے مہنگے جانور کی قربانی کرتے ہیں ، گوشت بھی کھاتے ہیں مگر عبرت نہیں لیتے ، قربانی کے دِن بھی نمازیں قضا کر رہے ہوتے ہیں ، فلموں ڈراموں اور مختلف گناہوں بھرے فنکشنز (Functions)میں عید کا دِن گزارتے اور یومِ عِیْد کو اپنے حق میں یومِ وَعِیْد بنا لیتے ہیں۔
ایسے نادانوں کو ڈر جانا چاہئے ، علّامہ اِبْنِ رَجَب حنبلی رَحمۃُ اللہ عَلَیْہ فرماتے ہیں : ایسے نادان سے تو وہ جانور بہتر ہیں کہ جب تک زِندہ رہے ، ذِکْرُ اللہ کرتے رہے ، آخِر اللہ پاک ہی کے نام پر قربان ہو گئے۔ ([2])
ہماری بگڑی ہوئی عادتیں نکل جائیں ملے گُناہوں کے امراض سے شفا یارَب!
رہیں بھلائی کی راہوں میں گامزن ہر دَم کریں نہ رُخ مرے پاؤں گُناہ کا یارَب ! ([3])
BOOK TOPIC
©Copyright 2026 by I.T. Department of Dawat-e-Islami