Share this link via
Personality Websites!
پیارے آقا ، مدینے والے مصطفےٰ صلی اللہ عَلَیْہِ وَ آلِہٖ وَسَلَّم کے فرمان کا خُلاصہ ہے : کتنے جانور ایسے ہیں جو انسانوں سے بہتر اور ان سے زیادہ ذِکْرُ اللہ کرنے والے ہیں۔ ([1])
اس سے معلوم ہوا ؛ مجموعی طَور پر جانور انسانوں کی نسبت زیادہ ذِکْرُ اللہ کرتے ہیں ، ہاں ! انسانوں میں بھی ایسے ہیں جو بہت کثرت سے اللہ پاک کا ذِکْر کرتے ہیں مگر انسانوں کی ایک تعداد ہے جو غفلت کا شکار رہتے ہیں جبکہ جانور عموماً اللہ پاک کا ذِکْر کرنے والے ہی ہوتے ہیں۔ چنانچہ اللہ پاک نے ہمیں جانوروں کی قربانی کرنے کا حکم دیا ، اس میں حکمت یہ ہے کہ گوشت کھانے سے عقل بڑھتی ہے ، جسم کی قُوّت و طاقت میں اِضَافہ ہوتا ہے اور گوشت کی یہ خاصِیَّت ہے کہ یہ انسان کی طبیعت پر اَثَر انداز ہوتا ہے۔
چنانچہ ہم پر حلال جانوروں کی قربانی لازِم قرار دی گئی ، تاکہ ہم ان ذِکْرُ اللہ کرنے والے جانوروں کا گوشت کھائیں ، اس سے ہماری عقل بڑھے ، جب ذِکْرُ اللہ کرنے والے جانور کے گوشت کے ذریعے عقل بڑھے گی تو وہ عقل نیکی کی طرف زیادہ مائل ہو گی ، اس میں فتور کم آئے گا ، ایسی عقل اچھی سوچ والی ہو جائے گی۔
یُونہی ذِکْرُ اللہ کرنے والے جانور کا گوشت ہمارے جسم کا حِصّہ بنے گا ، ہماری طبیعت کا حِصّہ بنے گا تو اس سے غفلت زائِل ہو گی اور انسان کثرت سے ذِکْرُ اللہ کرنے والا بن جائے گا۔
علامہ ابن رجب حنبلی رَحمۃُ اللہ عَلَیْہ یہ مدنی پھول ذکر کرنے کے بعد فرماتے ہیں : جو بندہ اللہ پاک کی اطاعت کرنے والے ، ذِکْرُ اللہ کی کثرت کرنے والے،ان جانوروں کو ذبح
BOOK TOPIC
©Copyright 2026 by I.T. Department of Dawat-e-Islami