Share this link via
Personality Websites!
تفسیر صراط الجنان میں اس آیت کے تحت ہے : یعنی گزشتہ ایماندار اُمتوں میں سے ہر امت کے لئےاللہ پاک نے ایک قربانی مقرر فرمائی تا کہ وہ جانوروں کو ذبح کرتے وقت ان پر اللہ پاک کا نام لیں۔([1])
(1) : قربانی شکرِ نعمت اور عقیدۂ توحید کا عملی اِظْہار
زمانۂ جاہلیت میں لوگ اپنے جھوٹے خُداؤں کے لئے قربانی کیا کرتے تھے اور ذَبَح کے وقت بھی اِنہی کا نام پُکارا کرتے تھے ، مُشْرِکین کے اس شِرْک کی کاٹ کرتے ہوئے اللہ پاک نے فرمایا :
لِّیَذْكُرُوا اسْمَ اللّٰهِ عَلٰى مَا رَزَقَهُمْ مِّنْۢ بَهِیْمَةِ الْاَنْعَامِؕ-فَاِلٰهُكُمْ اِلٰهٌ وَّاحِدٌ فَلَهٗۤ اَسْلِمُوْاؕ
(پارہ : 17،سورۂ حج : 34)
ترجَمہ کنزُ الایمان : کہ اللہ کا نام لیں اس کے دئیے ہوئے بے زبان چوپایوں پرتو تمہارا معبود ایک معبود ہے تو اسی کے حضور گردن رکھو۔
یعنی اللہ پاک ہی تمہارا رازِق (یعنی تمہیں رِزق دینے والا)ہے ، اللہ پاک ہی نے یہ جانور پیدا فرمائے ، اللہ پاک ہی نے ان طاقتور جانوروں کو تمہارے قابُو میں دیااور اللہ پاک نے ہی انہیں ذبح کرنے اور گوشت کے ذریعے توانائی حاصِل کرنے کی تمہیں اجازت دِی ، تمہارا ایک ہی خُدا ہے ، لہٰذا جانور ذَبَح کرتے وقت اسی کا نام لو ! اسی کا شُکر ادا کرو ! اور اسی کے حُضُور سَر جھکاؤ!
BOOK TOPIC
©Copyright 2026 by I.T. Department of Dawat-e-Islami