Share this link via
Personality Websites!
اور اُتارتے وقت احتیاط سے کام نہیں لیتے*کبھی جلد بازی میں جانوروں کو گاڑی سے چھلانگ لگوا دیتے ہیں ، جس سے ان کی ٹانگ ٹوٹنے یا شدید چوٹ لگنے کا خدشہ ہوتا ہے۔
اے عاشقانِ رسول ! ہمیں ڈرنا چاہئے ، عبرت لینی چاہئے ، یہ جانور تو وہ ہے جو اپنے رَبِّ کریم کے نام پر اپنی جان قربان کر رہا ہے ، اپنی جان کی بازی لگا کر ہمارے گُنَاہوں کا کفّارہ ادا کر رہا ہے ، ہمیں تو چاہئے کہ اس کا اِحْسَان مانیں اور اس کی خوب عزّت کریں۔
اللہ پاک ہمیں ہدایت نصیب فرمائے اور مخلوقِ خُدا کے ساتھ بھلائی سے پیش آنے کی توفیق عطا فرمائے۔
اٰمِیْن بِجَاہِ خَاتَمِ النَّبِیّٖن صلی اللہ عَلَیْہِ وَ آلِہٖ وَسَلَّم ۔
صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب ! صَلَّی اللہ عَلٰی مُحَمَّد
اے عاشقانِ رسول ! یہ بات یاد رکھئے ! کہ قربانی کوئی تہوار یا رَسْم نہیں بلکہ ایک بامقصد فریضہ ہے۔ قربانی میں ہمارے لئے سیکھنے کا بہت کچھ موجود ہے* قربانی ہمیں جینے کا مقصد سمجھاتی ہے* قربانی میں ایثار کا درس ہے* قربانی ہمیں ہمدردی کا سبق دیتی ہے اور* سب سے اَہَم بات یہ کہ قربانی ہمیں بندگی کے آداب سکھاتی ہے۔ آئیے! اس تعلق سے قرآنِ کریم کی ایک آیتِ کریمہ سُنتے اور اسے سمجھنے کی کوشش کرتے ہیں :
اللہ پاک قرآنِ کریم میں ارشاد فرماتا ہے :
وَ لِكُلِّ اُمَّةٍ جَعَلْنَا مَنْسَكًا لِّیَذْكُرُوا اسْمَ اللّٰهِ عَلٰى مَا رَزَقَهُمْ مِّنْۢ بَهِیْمَةِ الْاَنْعَامِؕ-فَاِلٰهُكُمْ اِلٰهٌ وَّاحِدٌ فَلَهٗۤ اَسْلِمُوْاؕ-وَ بَشِّرِ الْمُخْبِتِیْنَۙ(۳۴) (پارہ : 17،سورۂ حج : 34)
ترجَمہ کنزُ الایمان : اور ہر امت کے لئے ہم نے ایک قربانی مقرر فرمائی کہ اللہ کا نام لیں اس کے دئیے ہوئے بے زبان چوپایوں پر تو تمہارا معبود ایک معبود ہے تو اسی کے حضور گردن رکھو اور اے محبوب خوشی سنادو ان تواضع والوں کو۔
BOOK TOPIC
©Copyright 2026 by I.T. Department of Dawat-e-Islami