Share this link via
Personality Websites!
کفّارہ بَن رہا ہے۔
اس میں اُن لوگوں کے لئے عِبْرت ہے جو قربانی کے وقت تماشا لگاتے ، جانور کی جان نکلتے دیکھ کر ، اس کے بلکنے کی آوازیں سُن کر خوش ہوتے اور مَعَاذَ اللہ ! بعض نادان تو تالیاں بھی بجاتے دکھائی دیتے ہیں بلکہ شوشل میڈیا کا دور ہے لوگ اب تو ویڈیو کلپ بناکر سوشل میڈیا کے ذریعےوائرل کرکے گویا دل خوش کررہے ہوتے ہیں۔ آہ ! یہ وقت تماشا دیکھنے کا نہیں بلکہ اپنے گُنَاہوں پر شرمندہ ہونے اور اس جانور کا اِحْسَان ماننے کا وقت ہے،اپنی موت کو یاد کرکے گناہوں سے پکی سچی توبہ کرنے کا وقت ہے کہ عنقریب میرا بھی اِس دُنیا سے کُوچ ہونے والا ہے،میری بھی ایسی ہی بے بسی ہوگی،بے کسی کے اس عالم میں میری کون سنے گا !
کاشکے نہ دنیا میں پیدا مَیں ہوا ہوتا قبر و حشر کا ہر غم ختم ہو گیا ہوتا
آہ ! سَلْبِ ایماں کا خوف کھائے جاتا ہے کاش کے مِری ماں نے ہی نہیں جنا ہوتا
اُونٹ بن گیا ہوتا اور عیدِ قُرباں میں کاش ! دَستِ آقا سے نَحر ہو گیا ہوتا
آہ ! کثرتِ عِصیاں ہائے ! خوف دوزخ کا کاش ! میں نہ دنیا کا اِک بَشَر بنا ہوتا([1])
صَلُّوْا عَلَی الْحَبیب! صَلَّی اللّٰہُ عَلٰی مُحَمَّد
پیارے اسلامی بھائیو ! وہ لوگ بھی عبرت پکڑیں جو جانور کو ناحق تکلیف پہنچاتے ہیں * انہیں چارہ پانی پُورا نہیں دیتے* کسی دُور علاقے سے جانور لانا ہو تو راستے میں پُوری خوراک مہیا نہیں کرتے* چھوٹی گاڑی میں بڑا جانور گھُسا دیتے ہیں*جانور کو گاڑی میں چڑھاتے
BOOK TOPIC
©Copyright 2026 by I.T. Department of Dawat-e-Islami