Share this link via
Personality Websites!
قربانی غلطیوں سے بچ کر شریعت کے مطابق دُرست طریقے سے ہوسکے۔
آئیے! قربانی سے مُتعلِّق چند ضروری مسائل سنتے ہیں :
* بعض لوگ پورے گھر کی طرف سے صِرْف ایک بکرا قُربان کرتے ہیں، حالانکہ بعض اَوقات گھر کے کئی اَفراد صاحِبِ نصاب ہوتے ہیں اور اِس بِنا پر ان ساروں پر قربانی واجِب ہوتی ہے ان سب کی طرف سے الگ الگ قربانی کی جائے۔ ایک بکرا جو سب کی طرف سے کیا گیا کسی کا بھی واجِب ادا نہ ہوا کہ بکرے میں ایک سے زیادہ حصّے نہیں ہوسکتے ، کسی ایک طے شدہ فرد ہی کی طرف سے بکرا قُربان ہوسکتا ہے۔ * بڑا جانور (یعنی بیل ، گائے، بچھڑا ، بھینس وغیرہ)اور اُونٹ میں7 قربانیاں ہوسکتی ہیں۔ ([1]) * نابالِغ کی طرف سے اگرچِہ واجِب نہیں مگر کر دینا بہتر ہے (اور اجازت بھی ضَروری نہیں) بالغ اولاد یا زَوجہ کی طرف سے قربانی کرنا چاہے تو اُن سے اجازت طلب کرے اگر ان سے اجازت لئے بِغیر کردی تو ان کی طرف سے واجِب ادا نہیں ہوگا۔ ([2])
اجازت دو طرح سے ہوتی ہے : * صَراحَۃً مَثَلاً ان میں سے کوئی واضِح طور پر کہہ دے کہ میری طرف سے قربانی کردو۔ * دَلَالَۃً مَثَلاً یہ اپنی زَوجہ یا اولاد کی طرف سے قربانی کرتا ہے اور اُنہیں اس کا عِلْم ہے اور وہ راضی ہیں۔ ([3])
BOOK TOPIC
©Copyright 2026 by I.T. Department of Dawat-e-Islami