Book Name:Hajj Kay Mehiny Ki Ibtidai Azeem 10 Din
پیارے اسلامی بھائیو! ماہِ ذِی الْحِجّۃِ الْحَرام اپنی بہاریں لُٹا رہا ہے، اس کی آمد ہوتے ہی سُنَّتِ ابراہیمی کی یادیں تازہ ہوجاتی ہیں، ہر سال لاکھوں لاکھ مُسلمان اس ماہِ مُقدَّس میں اللہ پاک کے حکم کی بجا آوری، سُنتِ ابراہیمی اور سُنَّتِ مُصْطَفٰے کی ادائیگی کے لئے کمر بستہ دِکھائی دیتے ہیں۔ لہٰذا جو مسلمان قربانی کرنے کی طاقت رکھتا ہو، اُسے چاہیے کہ وہ رِضائے اِلٰہی کے حُصُول اور سُنَّتِ ابراہیمی کی اَدائیگی کی نِیَّت سے اس مہینے میں مالِ حلال سے قُربانی کا فریضہ سَر اَنْجام دے، کیونکہ یہ بہت بڑی سعادت کی بات ہے، چنانچہ
پارہ30 سُوْرۂ کوثر کی آیت نمبر2 میں ارشادِ باری ہے :
فَصَلِّ لِرَبِّكَ وَ انْحَرْؕ(۲)) پارہ30، سورۂ کوثر 10(
تَرْجَمَۂ کنز الایمان : تو تم اپنے ربّ کے لئے نماز پڑھو اور قربانی کرو۔
مشہور مفسرِ قرآن امام فخرُ الدین رازی رَحْمَۃُ اللّٰہ عَلَیْہ اس آیتِ مُبارکہ کے تحت فرماتے ہیں : حنفی علمائے کرام نے اس آیت سے یہ اِسْتِدلال فرمایا کہ قُربانی واجب ہے ۔ ([1])
پیارے اسلامی بھائیو! اَحادیثِ مُبارکہ قربانی کے فَضائل ومَسائل سے مالا مال ہیں۔ آئیے! قُربانی کے فضائل پر مُشتمل چار4فرامینِ مُصْطَفٰے صَلَّی اللہ عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم سُنتے ہیں ، چنانچہ :
* ترمذی شریف کی حدیثِ مبارکہ میں ہے : قربانی کرنے والے کو قربانی کے جانور کے ہر بال کے بدلے میں ایک نیکی ملتی ہے۔ ([2]) * فرمانِ آخری نبی ، رسولِ ہاشمی صَلَّی اللّٰهُ عَلَیْهِ وَ آلِهٖ وَ سَلَّم : جس نے خُوش دِلی سے طالبِ ثواب ہو کر قربانی کی ، تووہ دوزخ کی آگ سے آڑ ہو