Share this link via
Personality Websites!
دوران میری ملاقات دعوت اسلامی سے وابستہ ایک اسلامی بھائی سے ہوگئی،جن کی انفرادی کوشش کے نتیجے میں زندگی میں پہلی بار مجھے مدنی قافلے میں سفر کی سعادت نصیب ہوئی ۔الحمد للہ! مدنی قافلے کی برکت سے بد عقیدگی اور نشے کی بُری عادت سے توبہ کی توفیق بھی مل گئی، تادمِ بیان جامعۃُ المدینہ میں درجہ ثانیہ(یعنی دُوسرے سال) کا طالبِ علم ہوں۔([1])
اچّھی نیّت کا پھل پاؤ گے بے بدل سب کرو نیّتیں قافلِے میں چلو
دُور بیماریاں اور ناداریاں ہوں ٹلیں مشکلیں قافلے میں چلو
صَلُّوْا عَلَی الْحَبیب! صَلَّی اللّٰہُ عَلٰی مُحَمَّد
پیارے اسلامی بھائیو! بیان کو اختتام کی طرف لاتے ہوئے سُنّت کی فضیلت اور چند آدابِ زندگی بیان کرنے کی سَعَادت حاصِل کرتا ہوں۔ تاجدارِ رسالت، شہنشاہِ نبوت صلی اللہُ عَلَیْہِ وَ آلِہٖ وَسَلَّم نےفرمایا: مَنْ اَحَبَّ سُنَّتِي فَقَدْ اَحَبَّنِي وَمَنْ اَحَبَّنِي كَانَ مَعِی فِي الْجَنَّةِ جس نے میری سُنّت سے محبت کی اس نے مجھ سے محبت کی اور جس نے مجھ سے محبت کی وہ جنّت میں میرے ساتھ ہو گا۔([2])
سینہ تیری سُنّت کا مدینہ بنے آقا! جنت میں پڑوسی مجھے تم اپنا بنانا
فرمانِ مصطفےٰ صلی اللہُ عَلَیْہِ وَ آلِہٖ وَسَلَّم :اَلسَّلَامُ قَبْلَ الْکَلَامِ ؛ سلام بات چیت سے پہلے ہے۔([3])
پیارے اسلامی بھائیو! مسلمان سے مُلاقات کرتے وقت سلام کرنا سنت ہے۔ * سلام
BOOK TOPIC
©Copyright 2026 by I.T. Department of Dawat-e-Islami