Share this link via
Personality Websites!
قسم کے ہیں: (1):واجب: جیسے اللہ پاک کے ساتھ اچھا گمان رکھنا(2):مستحب: جیسے نیک مسلمان کے ساتھ اچھا گمان رکھنا(3):ممنوع و حرام: جیسے اللہ پاک کے ساتھ برا گمان رکھنا، یونہی کسی مسلمان کے لئے بدگمانی کرنا کہ یہ حرام ہے۔ ([1])
حضرت ابوہریرہ رَضِیَ اللہُ عنہ سے روایت ہے، اللہ پاک کے نبی، رسولِ ہاشمی صلی اللہُ عَلَیْہِ وَ آلِہٖ وَسَلَّم نے فرمایا: اپنے آپ کو بدگمانی سے بچاؤ کہ بدگمانی بدتَرین جھوٹ ہے۔([2])
بدگمانی کے دینی و دُنیوی نقصانات
تفسیر صِرَاطُ الجِنَان میں ہے: (1):جس کے بارے میں بدگمانی کی، اگر اس کے سامنے اس کا اظہار بھی کر دیا تو اس کی دِل آزاری ہو سکتی ہے اور شرعی اجازت کے بغیر مسلمان کی دِل آزاری حرام ہے(2):اگر مسلمان کے سامنے اس کے متعلق بدگمانی کا اظہار نہ کیا، بلکہ اس کی پیٹھ پیچھے کیا تو یہ غیبت ہو جائے گی اور مسلمان کی غیبت کرنا بھی حرام ہے(3):بدگمانی کرنے والا محض اپنے گمان پر صبر نہیں کرتا بلکہ وہ سامنے والے کےعیب تلاش کرنے میں لگ جاتا ہے اور کسی مسلمان کے عیب تلاش کرنا بھی گُنَاہ ہے (4):بدگمانی کی ہلاکت میں سے یہ بھی ہے کہ بدگمانی کرنے سے بغض اور حسد جیسے خطرناک باطنی امراض پیدا ہوتے ہیں(5):بدگمانی کرنے سے 2 بھائیوں میں دُشمنی پیدا ہو جاتی ہے، ساس اور بہو ایک دوسرے کے خلاف ہو جاتی ہیں، شوہر اور بیوی میں ایک دوسرے پر اعتماد ختم
BOOK TOPIC
©Copyright 2026 by I.T. Department of Dawat-e-Islami