Share this link via
Personality Websites!
کو عذاب دے جو اِس کا جنازہ لے کر چلے اور جو اِس کے پیچھے چلے اور جنہوں نے اِس کی نمازِ جنازہ ادا کی۔ ([1])
اے عاشقانِ رسول ! حضرتِ سیِّدُنا مالِک بن اَنس رَضِیَ اللہُ عَنہ کو بعد ِوفات کسی نے خواب میں دیکھ کر پوچھا : مَا فَعَلَ اللّٰہُ بِکَ؟ یعنی اللہ پاک نے آپ کے ساتھ کیا سلوک فرمایا؟ کہا : ایک کلمے کی وجہ سے بخش دیا جو حضرتِ عثمانِ غنی رَضِیَ اللہُ عَنہ جنازہ دیکھ کر کہا کرتے تھے۔ (وہ کلمہ یہ ہے : )سُبْحٰنَ الْحَیِّ الَّذِیْ لَا یَمُوتلہٰذا میں بھی جنازہ دیکھ کر یہی کہا کرتا تھا ، یہ کلمہ (کہنے ) کے سبب اللہ پاک نے مجھے بَخْش دیا* جنازے میں اللہ پاک کو راضی کرنے ، نمازِ جنازہ کے فرض کی ادائیگی ، عبرت حاصل کرنے ، میِّت اور اس کے عزیزوں کی دلجوئی کرنے وغیرہ اچھی اچھی نیتوں سے شرکت کرنی چاہئے* جنازے کو کندھا دینا ثوا ب کا کام ہے ، نبئ رَحمت ، شفیعِ اُمَّت صَلَّی اللہُ عَلیہ واٰلہٖ و سَلَّم نے حضرتِ سعد بن معاذ رَضِیَ اللہُ عَنہ کا جنازہ اٹھایا تھا* چھوٹے بچے کا جنازہ اگر ایک شخص ہاتھ پر اُٹھا کر لے چلے تو حرج نہیں اور یکے بعد دیگرے (یعنی ایک کے بعد دوسرے ) لوگ ہاتھوں میں لیتے رہیں* عورَتوں کو (بچہ ہو یا بڑا کسی کے بھی) جنازے کے ساتھ جانا نا جائز و ممنوع ہے* شوہر اپنی بیوی کے جنازے کو کندھا بھی دے سکتا ہے ، قَبْر میں بھی اُتار سکتا ہے اور منہ بھی دیکھ سکتا ہےصرف غسل دینے اور بلا حائل(مثلاً بغیر کپڑے کے) بدن کو چھونے کی ممانعت ہے* جنازے کے ساتھ بلند آواز سے کلمۂِ طیّبہ یا کلمۂِ شہادت یا حمد و نعت وغیرہ پڑھنا جائز ہے۔ ([2])
جنازہ آگے آگے کہہ رہا ہے اے جہاں والو! مرے پیچھے چلے آؤ تمہارا رہنما میں ہوں
BOOK TOPIC
©Copyright 2026 by I.T. Department of Dawat-e-Islami