Share this link via
Personality Websites!
ہوئی۔ مغرب سے تقریباً 2 گھنٹے بعد ایک بچہ پان لایا ، اعلیٰ حضرت رَحْمَۃُ اللّٰہِ عَلَیْہ نے اسے ایک تھپڑ مارکر فرمایا : اتنی دیر میں لایا؟لیکن بعدمیں آپ رَحْمَۃُ اللّٰہ عَلَیْہ کو خیال آیا کہ اس بے چارے کا تو کوئی قصور نہ تھا ، قصور تو دیر سے بھیجنے والے کا تھا ۔
چنانچہ سَحَری کے بعد اُس بچے کو بلوایا جو شام کو پان دیر میں لایا تھا اور فرمایا : شام کو میں نے غلطی کی جو تمہارے چپت ماری ، دیر سےبھیجنے والے کا قصور تھا ، لہٰذا تم میرے سر پر تھپڑ مارو اور ٹوپی اُتارکر اِصرار فرماتے رہے۔ اعتکاف میں بیٹھے لوگ یہ سُن کر پریشان ہوگئے ، وہ بچہ بھی بہت پریشان ہوکر کانپنے لگا۔ اس نے ہاتھ جوڑ کر عرض کی : حضور!میں نے معاف کیا۔ فرمایا : تم نابالغ ہو ، تمہیں معاف کرنے کا حق نہیں ، تم تھپڑ مارو۔ مگر وہ مارنے کی ہمت نہ کرسکا۔ آپ رَحْمَۃُ اللّٰہِ عَلَیْہ نے اپنا بکس(Box)منگوا کرمٹھی بھر پیسے نکالے اور وہ پیسے دکھا کر فرمایا : میں تم کو یہ دوں گا ، تم تھپڑ مارو۔ مگر بے چارہ یہی کہتا رہا ، حضور!میں نے معاف کیا۔ آخرِ کار اعلیٰ حضرت رَحْمَۃُ اللّٰہ عَلَیْہ نے اس کا ہاتھ پکڑ کر بہت سے تھپڑ اپنے سَرِ مبارک پر لگائے اور پھر اس کو پیسے دے کر رُخصت کر دیا۔ (حیات ِاعلیٰ حضرت ، ۱ / ۱۰۷ملخصاً)
اے عاشقانِ اعلیٰ حضرت!آپ نے سُنا کہ اعلیٰ حضرت ، امامِ اہلسنّت مولانا شاہ امام احمد رضا خان رَحْمَۃُ اللّٰہ عَلَیْہ نے اپنے چاہنے والوں کو عَمَلی طور پر یہ بتادیا کہ چاہے کوئی کتنے ہی بڑے منصب(Post)پر فائز کیوں نہ ہو ، اگر اس سے کسی کا دل دکھ جائے تواسے معافی مانگنے میں ہرگز شرم محسوس نہیں کرنی چاہیے ، کیونکہ حُقوقُ العباد کا معامَلہ انتہائی نازک ہے۔ اس کی وجہ سے بندہ بہت سے گناہوں میں مُبْتَلا ہوسکتا ہے جو اس کیلئے دنیاوی اور اُخروی نقصانات کا باعث بن سکتے ہیں ، مَثَلاً بندوں کے حُقوق اَدا نہ کرنے سے بندہ دوسروں کا دل دکھانے جیسے کبیرہ گُناہ میں مُبْتَلا ہوسکتا ہے اور یہی دل
BOOK TOPIC
©Copyright 2026 by I.T. Department of Dawat-e-Islami