Share this link via
Personality Websites!
کسی مسلمان کو اپنے سے معمولی جانے ، کسی جائز پیشے والے کو لوگوں کے سامنے ذلیل کرے بلکہ ایک مسلمان ہونےکی حیثیت سے ہر ایک کے ساتھ اچھا سُلُوک کرنا ، آنے والے کا دل خوش کرنے کیلئے مسکرا کر ملنا ، اسے عزّت کے ساتھ بٹھانا اور مسلمانوں میں برابری قائم رکھنا اسلام کی روشن تعلیمات کا حِصَّہ ہے مگر افسوس!صد افسوس!آج ہم اسلامی تعلیمات کو چھوڑ کر نہ جانے کس طرف چل پڑے ہیں اور اپنی قوم(Nation) ، زبان(Language)اور نسب(Caste)کے سبب فخر کرتے اور خود کو دوسروں سے افضل واعلیٰ جانتے ہیںحالانکہ اللہ پاک کے نزدیک وہی مسلمان زیادہ عزّت و مرتبے والا ہے جوتقویٰ و پرہیزگاری میں دوسروں سے زیادہ ہو ، چُنانچہ
پارہ 26سُوْرَۃُ الْحُجُرات کی آیت نمبر 13 میں اِرْشادہوتا ہے :
اِنَّ اَكْرَمَكُمْ عِنْدَ اللّٰهِ اَتْقٰىكُمْؕ-اِنَّ اللّٰهَ عَلِیْمٌ خَبِیْرٌ(۱۳)
ترجمۂ کنزالعرفان : بیشکاللہ کے یہاں تم میں زیادہ عزّت والا وہ ہے جو تم میں زیادہ پرہیزگارہےبیشک اللہ جاننے والا خبردار ہے۔
صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللّٰہُ عَلٰی مُحَمَّد
اے عاشقانِ اولیا!آج ہمارے معاشرہ انتہائی تیزی کے ساتھ تباہی و بربادی کی طرف بڑھ رہا ہے ، جسے دیکھو وہ اپنے خاندان اور قوم کو افضل سمجھتے ہوئے فخر کرتا اور دوسری برادری والوں کو گھٹیا سمجھنے لگا ہے ، جس کی وجہ سے اسلامی بھائی چارہ ختم ہوتا جارہاہے ، آپس میں نفرتیں اور دشمنیاں جڑ پکڑتی جارہی ہیں۔ بسا اوقات یہ دُشمنیاں اورلڑائی جھگڑے ، مار دھاڑ سے بڑھ کر قتل و غارت گری تک پہنچ جاتی ہیں جبکہ پیارے آقا صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ واٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے ارشاد فرمایا : اے لوگو!تمہارا رَبِّ کریم ایک ہے اور تمہارے والد ایک ہیں۔ سُن لو!کسی عَرَبی کو عَجَمِی(غیرِ عَرَبی) پر ، کسی عَجَمِی(غیرِ عَرَبی)کو عَرَبی پر ، کسی
BOOK TOPIC
©Copyright 2026 by I.T. Department of Dawat-e-Islami