Share this link via
Personality Websites!
اَہلسنّت مولانا شاہ امام احمد رَضا خان رَحْمَۃُ اللّٰہ ِ عَلَیْہ کی خدمت میں حاضر ہوا کرتے اور اعلیٰ حضرت رَحْمَۃُ اللّٰہ عَلَیْہ بھی کبھی کبھی اُن کے یہاں تشریف لے جایا کرتے تھے۔ ایک مرتبہ حضور(اعلیٰ حضرت رَحْمَۃُ اللّٰہ عَلَیْہ)ان کے یہاں تشریف فرماتھے کہ ان کے محلے کا ایک بیچارہ غریب مسلمان ٹُوٹی ہوئی پُرانی چارپائی پر جو صحن(Courtyard)کے کَنارے پڑی تھی ، جھجکتے ہوئے بیٹھا ہی تھا کہ صاحِبِ خانہ نے نہایت کڑوے تَیوروں(یعنی غُصّے والی نظروں)سے اُس کی طرف دیکھنا شُروع کیا یہاں تک کہ وہ ندامت(یعنی شرمندگی)سےسر جُھکائے اُٹھ کر چلاگیا۔ اعلیٰ حضرترَحْمَۃُ اللّٰہ عَلَیْہ کو صاحِبِ خانہ کے اس مغرورانہ انداز سے سخت تکلیف پہنچی مگر کچھ فرمایا نہیں۔ کچھ دنوں بعد وہ آپ(رَحْمَۃُ اللّٰہ عَلَیْہ)کے یہاں آئے۔ اعلیٰ حضرت رَحْمَۃُ اللّٰہ عَلَیْہ نے اپنی چارپائی پرجگہ دی ، وہ بیٹھے ہی تھے کہ اتنے میں کریم بخش نامی حجّام (Barber)حُضور(اعلیٰ حضرترَحْمَۃُ اللّٰہ عَلَیْہکی داڑھی)کا خط بنانے کیلئے آئے ، وہ اِس فکر میں تھے کہ کہاں بیٹھوں؟اعلیٰ حضرت رَحْمَۃُ اللّٰہ عَلَیْہ نے فرمایا : بھائی کریم بخش!کیوں کھڑے ہو؟مسلمان آپس میں بھائی بھائی ہیں اور اُن صاحب کے برابر میں بیٹھنے کا اشارہ فرمایا ، وہ بیٹھ گئے ، پھر ان صاحِب کے غصے کی یہ کیفیت تھی کہ جیسے سانپ پُھنکاریں مارتا ہے ، وہ فوراً اُٹھ کر چلے گئے ، پھر کبھی نہ آئے۔ ([1])
صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللّٰہُ عَلٰی مُحَمَّد
اے عاشقانِ امام احمد رضا!آپ نےسنا کہ اعلیٰ حضرت ، امامِ اَہلسنّت رَحْمَۃُ اللّٰہ عَلَیْہ دِینی بھائی چارے اورمسلمانوں میں برابری کی فضا قائم رکھنے کے بارے میں کیسا زبردست مَدَنی ذہن رکھتے تھے۔ آپ رَحْمَۃُ اللّٰہ عَلَیْہ نے عَمَلی طور پر ہمیں بتادیا کہ کوئی مسلمان چاہے کتنا ہی امیر و کبیر ہو ، دنیوی عزّت ومرتبے والا ہو یا کسی اعلیٰ خاندان سے تعلُّق رکھتا ہو اسے ہر گز ہرگز یہ حق نہیں پہنچتا کہ
BOOK TOPIC
©Copyright 2026 by I.T. Department of Dawat-e-Islami