Share this link via
Personality Websites!
شکر یہ ہے کہ نظر نعمت عطا کرنے والے پر ہو نہ کہ نعمت پر۔ (احیاء العلوم ، کتاب الصبر والشکر ، ۴ / ۱۰۳)* ابو سلیمان واسطی رَحْمَۃُ اللّٰہ ِ عَلَیْہ فرماتے ہیں : اللہ پاک کی نعمتوں کو یاد کرنے سے دل میں اس کی محبت پیدا ہوتی ہے۔ (تاریخ مدینہ ابن عساکر ، ۳۶ / ۳۳۴ ، حدیث : ۴۱۳۳)* عمر بن عبد العزیز رَحْمَۃُ اللّٰہ ِ عَلَیْہ فرماتے ہیں : اللہ پاک کی نعمتوں کو شکر کے ذریعے محفوظ کر لو۔ (حلیۃ الاولیا ، ۵ / ۳۷۴ ، حدیث : ۷۴۵۵)* امام محمد بن محمدغزالی رَحْمَۃُ اللّٰہ ِ عَلَیْہ فرماتے ہیں : دل کا شکر یہ ہے کہ نعمت کے ساتھ خیر اور نیکی کا ا رادہ کیا جائے * زبان کا شکر یہ ہے کہ اس نعمت پر اللہ پاک کی حمد وثناء کی جائے۔ * باقی اعضا کا شکر یہ ہے کہاللہ پاک کی نعمتوں کو اللہ پاک کی عبادت میں خرچ کیا جائے اور ان نعمتوں کواللہ پاک کی معصیت میں صرف ہونے سے بچایا جائے * آنکھوں کا شکر یہ ہے کہ کسی مسلمان کا عیب دیکھے تو اس پر پردہ ڈالے۔ (احیاء العلوم ، کتاب الصبروالشکر ، الرکن الاول فی نفس الشکر ، ۴ / ۱۰۳۔ ملخصاً)
صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللہُ عَلٰی مُحَمَّد
* سواری پر اطمینان سے بیٹھ جانے پر دُعا
دعوتِ اسلامی کے ہفتہ وار سُنّتوں بھرے اجتماع کے شیڈول کےمطابِق “ سواری پر اطمینان سے بیٹھ جانے پر دُعا “ یادکروائی جائےگی۔ وہ دُعایہ ہے :
اَلحَمْدُ لِلّٰہِ سُبْحٰنَ الَّذِي سَخَّرَ لَنَا ھٰذَا وَمَا کُنَّا لَہُ مُقْرِنِیْن وَ اِنَّا اِلٰی رَبِّنَا لَمُنْقَلِبُوْنَ۔
ترجمہ : اللہ تعالی کا شکر ہے ، پاکی ہے اسے جس نے اس سواری کو ہمارے بس میں کردیا اور یہ ہمارے بوتے (طاقت) کی نہ تھی اور بیشک ہمیں اپنے رب کی طرف پلٹنا ہے۔ (مدنی پنج سورۃ ، ص ۲۱۷)
صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللہُ عَلٰی مُحَمَّد
BOOK TOPIC
©Copyright 2026 by I.T. Department of Dawat-e-Islami