Share this link via
Personality Websites!
(3)فرمانِ اعلیٰ حضرت : عمدہ کارکردگی پر مُدَرِّسوں(یعنی اساتذۂ کرام)کو بھاری تنخواہیں دی جائیں تاکہ جان توڑ کر کوشش کریں۔
اَلْحَمْدُلِلّٰہ اس اُصول پر عمل کرتے ہوئے عاشقانِ رسول کی دینی تحریکدعوتِ اسلامی جامعات المدینہ اور مدارس المدینہ کے اساتذۂ کرام اور مُعَلِّمَات کو ماہانہ بہترین تنخواہ پیش کرنے کے ساتھ ساتھ بونس اور مقررہ چھٹیاں نہ کرنے کی صورت میں ہر چھ مہینے بعد ان چھٹیوں کی رقم بھی پیش کرتی ہے۔ صرف یہی نہیں بلکہ ممتاز ، بہتر اور مناسب دَرَجہ بندی کے اعتبار سے سالانہ اضافہ بھی کیا جاتا اور طے شدہ مدّت کے حساب سے گریڈ اورتنخواہ میں بھی اضافہ کیا جاتا ہے۔ اس کے علاوہ مجلس طِبِّی علاج کے تحت اساتذۂ کرام اور مُعَلِّمَاتکو فری میڈیکل کی سہولت بھی فراہم کی جاتی ہے۔
(4)فرمانِ اعلیٰ حضرت : طلبہ کی طبیعتوں کو پَرکھا(آزمایا)جائے ، جو جس کام کے زیادہ مُناسب دیکھا جائے ، اُسے بہترین وظیفہ(یعنی تعلیمی اخراجات کے لئے رقم)دے کر اُس کام میں لگایا جائے۔ یوں اُن میں کچھ مُدرّسین(اساتذۂ کرام) ، کچھ مُبَلِّغِیْن(دَرْس و بیان کرنے والے) ، کچھمُصَنِّفِیْن(کتابیں تحریر کرنے والے)بنائے جائیں پھر تصنیف(کتابیں تحریر کرنے)میں بھی تقسیم کاری ہو ، کوئی کسی فن پر کوئی کسی فن پر(مہارت حاصل کرے)۔ اور(5)اُن میں جو تیار ہوتے جائیں تنخواہیں دے کر ملک میں پھیلائے جائیں کہ تحریر ، تقریر اوروعظ(دَرْس و بیان)کے ذریعے دین اور مذہب کو پھیلائیں ۔
بیان کردہ اُصول کے تحت اگر طلبہ کو صلاحیت کے اعتبار سے کام میں لگانے کے حوالے سے دیکھیں تو عاشقانِ رسول کی دینی تحریک دعوتِ اسلامی کے تحت قائم جامعۃ المدینہ سے فارغ ہونے کے بعد اگر کوئی مَدَنی پڑھانے کا اَہل و خواہش مند ہو تو اُسے تدریسی کورس کروایا جاتا اورپھر جامعۃ المدینہ میں اُستاد مقرر کیاجاتا ہے۔ مفتی بننے کی صلاحیت و خواہش رکھنے والے مَدَنی کو شرعی مسائل اور اس کے بعد فتویٰ لکھنے کی مشق کروائی جاتی ہے۔ ان تمام مراحل میں کامیابی کے بعد دارُالاِفتا اَہلِ سُنّت میں
BOOK TOPIC
©Copyright 2026 by I.T. Department of Dawat-e-Islami