Share this link via
Personality Websites!
قافلے میں سفر کرنے کے مقاصد بتاکر دارالسنہ سےسمتیں دے کر مدنی قافلے میں روانہ کیا جاتا ہے اور مدنی قافلے کی واپسی پر کارکردگی بھی دارالسنہ پر لی جاتی ہے ۔
صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللّٰہُ عَلٰی مُحَمَّد
پیارے پیارے اسلامی بھائیو!اعلیٰ حضرت رَحْمَۃُ اللّٰہ عَلَیْہکی سیرت کا ایک روشن باب یہ بھی ہے کہ آپ رَحْمَۃُ اللّٰہ عَلَیْہ کثیر مصروفیات کے باوجود جماعت سے نماز پڑھا کرتے تھے ، حتّٰی کہ بیماری کی حالت میں بھی آپ رَحْمَۃُ اللّٰہ عَلَیْہ نماز کی جماعت تک بھی نہیں چھوڑتے تھے۔ آئیے!اس ضمن میں اعلیٰ حضرت رَحْمَۃُ اللّٰہ عَلَیْہ کی سیرت کا ایک ایمان افروز واقعہ سُنئے ، چنانچہ
اعلیٰ حضرت رَحْمَۃُ اللّٰہ عَلَیْہ اور نمازِ باجماعت کی پابندی
اعلیٰ حضرت رَحْمَۃُ اللّٰہ عَلَیْہ کےپاؤں کاانگوٹھا پک گیا تھا ، اُن کے خاص جرّاح(Surgeon)(یعنی زخموں اور پھوڑے پُھنسیوں کا علاج کرنے والے ڈاکٹر)نے اِس انگوٹھےکاآپریشن کیا ، پٹی(Bandage)باندھنے کے بعد انہوں نےعرض کی : حضور!اگر حَرَکَت نہ کریں گے تو یہ زخم دس(10)بارہ(12)روز میں ٹھیک ہوجائےگا ورنہ زیادہ وَقْتلگے گا ، وہ یہ کہہ کر چلے گئے ، یہ کیسے ممکن ہوسکتا ہے کہ مسجد کی حاضری اور جماعت کی پابندی چھوڑدی جائے۔ جب ظہر کا وَقْت آیا تو اعلیٰ حضرت رَحْمَۃُ اللّٰہ عَلَیْہ نے وُضو کیا ، کھڑے نہ ہو سکتے تھے تو بیٹھ کر باہر دروازے تک آگئے ، لوگوں نے کُرسی پر بٹھا کر مسجدمیں پہنچا دیا اور اسی وَقْت محلے اور خاندان والوں نے یہ طےکیا کہ ہر اذان کے بعد ہم سب میں سے چار(4) مضبوط آدَمی کرسی لے کر حاضر ہوجایا کریں گے اور پلنگ سے ہی کُرسی پربٹھاکرمسجد کی محراب کےقریب بٹھادیا کریں گے۔ یہ سلسلہ تقریباً ایک ماہ تک بڑی پابندی سے چلتا رہا۔ جب زخم اچھا ہوگیااور آپ رَحْمَۃُ اللّٰہ عَلَیْہ خود چلنے کےقابل ہوگئے تو یہ سلسلہ ختم ہوا۔ اعلیٰ حضرت رَحْمَۃُ اللّٰہ عَلَیْہ کی نماز تو نماز جماعت کاچھوڑنا بھی بلاعُذرِ شرعی شاید کسی صاحب کو یادنہ ہوگا۔ ( فیضانِ اعلیٰ حضرت ، ص۱۳۶ملخصاً)
BOOK TOPIC
©Copyright 2026 by I.T. Department of Dawat-e-Islami