Share this link via
Personality Websites!
ایک بار آپ دَامَتْ بَـرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہ نے ارشاد فرمایا : اعلیٰ حضرت رَحْمَۃُ اللہِ عَلَیْہ کے اَقُوْل(یعنی فرمان) پرہماری عُقُول(یعنی عقلیں)قُربان۔ اعلیٰ حضرت رَحْمَۃُ اللّٰہ عَلَیْہ کا(ہر)اَقُوْلہمیں قبول(ہے)۔ ایک مرتبہ جامعات المدینہ کےمُفتی کورْس کے طلبہ سے ارشاد فرمایا : اعلىٰ حضرت امام احمد رضا خان رَحْمَۃُ اللّٰہ عَلَیْہ جو کہاللہ پاک کے ولی ، سچے عاشقِ رسول اور ہمارے مُتَّفِقَہ بزرگ ہىں ، ان کى عقىدت کو دل کى گہرائى کے اندر سنبھال کر رکھنا بے حد ضرورى(Necessary) ہے۔ نبیِّ اکرم صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ واٰلِہٖ وَسَلَّمَ کافرمان ہے۔ اَلْـَـبرْکَةُ مَعَ اَکَـابِـرِ کُمْ ىعنى بَرَکت تمہارے بزرگوں کے ساتھ ہے۔ (مستدرک ، کتاب الایمان ، ۱ / ۲۳۸ ، حدیث : ۲۱۸)آپ مىں سے اگر کسى کا مىرے آقا اعلىٰ حضرت رَحْمَۃُ اللّٰہ عَلَیْہ سے اختلاف کا معمولى سا بھى ذہن بننا شروع ہوجائے تو سمجھ لىجئے ، مَعَاذَ اللہ آپ کى بربادى کے دِن شروع ہوگئے ، لہٰذا فوراًہوشیار ہوجائىے اور اختلاف کے خىال کو حَرفِ غلط کى طرح دماغ سے مِٹا دىجئے ، فتاوىٰ رَضَوِىَّہ شرىف مىں اعلىٰ حضرت رَحْمَۃُ اللّٰہ عَلَیْہ کا بىان کردہ کوئى مسئلہ بالفرض آپ کا ذہن قبول نہ کرے تب بھى اس کے بارے مىں عقل کے گھوڑے مت دوڑائىے بلکہ نہ سمجھ پانے کو اپنى عقل ہى کى کوتاہى (Lackness) تصور کىجئے۔
صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللّٰہُ عَلٰی مُحَمَّد
اعلیٰ حضرت رَحْمَۃُ اللّٰہ عَلَیْہ اور خود داری!
حضرتمولانا سَیّد ایّوب علی صاحب رَحْمَۃُ اللّٰہ عَلَیْہ کا بیان ہے : ایک صاحب نے(اعلیٰ حضرت رَحْمَۃُ اللّٰہ عَلَیْہکی بارگاہ میں)بدایونی پیڑوں(یعنی مٹھائی)کی ہانڈی پیش کی ، آپ رَحْمَۃُ اللّٰہ عَلَیْہ نے(ان سے)فرمایا : کیسے تکلیف فرمائی؟انہوں نے کہا : سلام کرنے کے لیے حاضر ہوا ہوں ، اعلیٰ حضرت رَحْمَۃُ اللّٰہ عَلَیْہ سلام کا
BOOK TOPIC
©Copyright 2026 by I.T. Department of Dawat-e-Islami