Share this link via
Personality Websites!
آزاری ، حسد کرنے ، دل میں دشمنی رکھنے اور دُشمنیاں کرنے جیسے کئی گُناہوں پر اُبھارسکتی ہے۔ ان گُناہوں میں پڑنے کے سبب غیبتوں ، چغلیوں ، تہمتوں ، بدگمانیوں اور کئی کبیرہ گُناہوں کا دروازہ بھی کُھل جاتاہے۔ جن کےحُقُوق ضائع کیے انہیں راضی کرنے کیلئے قیامت کے دن اپنی نیکیاں بھی دینی پڑسکتی ہیں اور نیکیاں نہ ہونے کی صورت میں ان لوگوں کے گناہوں کا بوجھ اُٹھا کر جنَّت سے محروم ہو کر عبرت ناک اَنجام سے واسطہ پڑسکتا ہے۔
صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللہُ عَلٰی مُحَمَّد
اعلیٰ حضرت رَحْمَۃُ اللّٰہ عَلَیْہ اور شفقت و خیر خواہی
اے عاشقانِ امام احمد رضا! اعلیٰ حضر ت رَحْمَۃُ اللّٰہ عَلَیْہ کی سیرتِ مبارَکہ کا ایک پہلو یہ بھی ہےکہ آپ رَحْمَۃُ اللّٰہ عَلَیْہ دُعا مانگتے وَقْت اپنے رشتے داروں ، دوستوں ، مَحَبَّت و عقیدت رکھنے والوں ، مُریدوں اور دیگر مسلمانوں کیلئے دعا کرنے کا خُصوصی اہتمام فرماتے تھے۔ آئیے!اس کی چند مثالیں ملاحظہ کیجئے :
(1)اعلیٰ حضرت رَحْمَۃُ اللّٰہ عَلَیْہنماز ِ فجر کے بعد اپنے اَوْراد و وَظائِف کے آخر میں اُن سب کے لئے نام لے کر دُعا فرمایا کرتے تھے۔ لوگ اِس بات کی آرزو رکھتے تھے کہ اُن کے نام بھی اِس فہرست میں شامل ہوجائیں۔
(2)حضرت سَیِّد ایّوب علی رَحْمَۃُ اللّٰہ عَلَیْہ فرماتےہیں : ایک دن میں بہت پریشان تھا ، دُعا کا طالب ہوا
BOOK TOPIC
©Copyright 2026 by I.T. Department of Dawat-e-Islami