Share this link via
Personality Websites!
معراج اور نبی پاک صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ واٰلِہٖ وَسَلَّمَ کے دیگر مُعْجِزَات کوعقل کے ترازو میں تولنے کے بجائے سچے دل سے تسلیم کریں اور اپنے ایمان کی حفاظت کیلئے ایسے لوگوں کی صُحبتِ بَد سے دُور رہیے کہ جو پیارے آقا ، محمدِ مصطفٰے صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے مُعْجِزَات و کمالات کا اِنکار کرتے ہیں اورآپ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی شان میں بے اَدَبیاں گستاخیاں کرتے ہیں۔
صَلُّو ْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللہُ عَلٰی مُحَمَّد
پیارے پیارے اسلامی بھائیو! مشہور مُحاوَرہ ہے کہ “ فِعْلُ الْحَکِیْمِ لَایَخْلُو عَنِ الْحِکْمَۃِ “ یعنی حکیم کا کوئی بھی کام حکمت سے خالی نہیں ہوتا ، اللہ پاک کے ہر کام میں بے شُمار حکمتیں پوشیدہ ہوتی ہیں جنہیں سمجھنے سے ہماری عقلیں قاصِر ہوتی ہیں۔ اللہ پاک نے اپنے مَدَنی حبیب صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کو معراج کروائی اس میں ایک حکمت نبیِ پاک ، صاحب ِ لَولاک ، سَیاحِ اَفلاک صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ واٰلِہٖ وَسَلَّمَ کی دلجوئی اورتسکینِ خاطر بھی تھی ، کیونکہ جس روز صفا کی چوٹی پر کھڑے ہوکر نبیِ کریم صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے قُریْشِ مکہ کو دعوتِ توحید دی تھی ، اِسی روز سے کُفارکے بُغْض و عَداوت کے شُعلے بھڑکنے لگے ، ہر طرف سے مَصائب و آلام کا سیلاب اُمنڈ آیا۔ رَنج و غم کا اندھیرا دن بدن گہرا ہوتا چلاگیا۔ لیکن اس تاریکی میں آپ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکے چچا ابُو طالب اور اُمُّ الْمؤمِنین حضرت خدیجہ رَضِیَ اللہُ عَنْہَا کا وُجُود ہر نازُک مرحلہ پرآپ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کیلئے تسکین و اطمینان کا سبب بنا رہا ، اِعلانِ نُبوَّت کے دسویں سال آپ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے چچانے وفات پائی ، اس صَدمہ کا زَخم ابھی بھر ابھی نہ تھا کہ آپ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی مُونِس و غم خوارحضرت خدیجہ رَضِیَ اللہُ عَنْہَا بھی وِصال فرماگئیں ، کُفّارِ مکہ کواب ان
BOOK TOPIC
©Copyright 2026 by I.T. Department of Dawat-e-Islami