Share this link via
Personality Websites!
حَضْرتِ صدرُ ا لْافاضِل مولانا سیِّدمُفتی محمد نعیمُ الدِّین مُراد آبادی رَحْمَۃُ اللّٰہ ِ عَلَیْہ خَزائن العرفان میں اس آیتِ کریمہ کے تَحت فرماتے ہیں : “ مِعْراج شریف نبیِ کریم صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کا ایک مُعجِزہ اور اللہ کی عظیم نعمت ہے اوراس سے حُضُور صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کا وہ کمالِ قُرب ظاہر ہوتا ہے جو مخلوقِ الٰہی میں آپ کے سوا کسی کو مُیسَّر نہیں۔ مِعْراج شریف بحالتِ بیداری جسم ورُوح دونوں کے ساتھ واقع ہوئی ، یہی جمہور(یعنی اکثر) اَہلِ اِسلام کا عَقیدہ ہےاور اَصحابِ رسول صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی کثیر جماعتیں اورحُضُور صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے جَلِیْلُ الْقَدرصحابہرَضِیَ اللہُ عَنْہُم اسی کے ماننے والےہیں۔ (خزائن العرفان ، ص۵۲۵)
پیارے پیارے اسلامی بھائیو!اللہ پاک نے معراج کی رات کے اس عَظیم واقعہ کوقرآنِ پاک میں لَفْظِ “ سُبْحٰن “ سےشُروع فرمایا ہے ، جس سے مُراد اللہ کی پاکی اور ذات ِباری تَعَالٰی کا ہر عَیْب ونَقْص سے پاک ہونا ہے ۔ اس میں حکمت یہ ہے کہ مِعْراجِ جسمانی کی بنا پرمُنکرین کی طرف سے جس قدر اِعتراضات ہوسکتے تھے ، ان سب کا جواب ہوجائے۔ مثلاً حُضُور نبیِّ کریمصَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکا جسمِ اَقدس کے ساتھ بَیْتُ الْمَقْدس یا آسمانوں پر تشریف لے جانا اور وہاں سے “ ثُمَّ دَنٰی فَتَدَلّٰی “ (قربِ خداوندی )کی منزل تک پہنچ کر تھوڑی سی دیرمیں واپس تشریف لے آنا منکرین کے نزدیک نامُمْکِن اور مُحال تھا۔ اللہ پاک نے لَفْظِ “ سُبْحٰن “ فرما کریہ ظاہر فرمادیا کہ یہ تمام کام میرے لئے بھی نامُمکن اور مُحال ہوں تویہ میری عاجزی اور کمزوری ہوگی اور کمزوری ایک عیب ہے اورمیں ہر عیب سے پاک ہوں ۔ (مقالاتِ کاظمی ، حصہ اول ، ص۱۲۳)
BOOK TOPIC
©Copyright 2026 by I.T. Department of Dawat-e-Islami