Share this link via
Personality Websites!
کو اپنے دیدار سے مُشرَّف فرمایا ، جس کی طلب حضرتِ مُوسیٰ کَلِیْمُ اللہ عَلٰی نَبِیِّنا وَعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلام کے دل کی دھڑکن بنی رہی ، حتّٰی کہ یہی آرزُو اِلتجاء بن کرحضرت مُوسیٰ عَلَیْہِ السَّلَام کے مُبارَک لَبوں پر آگئی اور بارگاہِ الٰہی میں عَرْض کی : ’’رَبِّ اَرِنِیْ ، اے رَبّ میرے مجھے اپنا دیدار دِکھا ! ‘‘ رَبّ کریم نے اِرْشاد فرمایا : ’’لَنْ تَرٰنِیْ تُو مجھے ہرگز نہ دیکھ سکے گا ۔ ‘‘ مگر جب بات اپنے پیارے حبیب صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ واٰلِہٖ وَسَلَّمَ کی آئی توخُود حضرت جبریل عَلَیْہِ السَّلَام کو بھیج کر محبوب کو بلوایااور اپنے دِیدار سے مُسْتَفِیْض فرمایا ، جبھی تو عاشقِ ماہِ رسالت ، اِمام احمد رضاخان رَحْمَۃُ اللّٰہ ِ عَلَیْہ نے کیا خُوب ارشاد فرمایا :
تَبَارَکَ اللہ شان تیری تجھی کو زیبا ہے بے نیازی
کہیں تو وہ جوشِ لَنْ تَرانِیْ کہیں تَقاضے وِصال کے تھے
(حدائقِ بخشش ، ص۲۳۴)
صَلُّو ْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللہُ عَلٰی مُحَمَّد
پیارے پیارے اسلامی بھائیو!اللہ پاک نے قرآنِ کریم میں واقِعۂ معراج کے بعض حصّے کو ان اَلْفَاظ کے ساتھ پارہ 15سورۂ بنی اِسْراۤئیل کی آیت نمبر 1میں یوں بَیان فرمایا ہے :
سُبْحٰنَ الَّذِیْۤ اَسْرٰى بِعَبْدِهٖ لَیْلًا مِّنَ الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ اِلَى الْمَسْجِدِ الْاَقْصَا الَّذِیْ بٰرَكْنَا حَوْلَهٗ لِنُرِیَهٗ مِنْ اٰیٰتِنَاؕ-اِنَّهٗ هُوَ السَّمِیْعُ الْبَصِیْرُ(۱)
تَرْجَمَۂ کنز العرفان : پاک ہے وہ ذات جس نے اپنے خاص بند ے کو رات کےکچھ حصے میں مسجدِ حرام سے مسجدِ اقصی تک سیر کرائی جس کےاِرد گرد ہم نے برکتیں رکھی ہیں تاکہ ہم اسے اپنی عظیم نشانیاں دکھائیں بیشک وہی سننے والا دیکھنے والا ہے ۔
BOOK TOPIC
©Copyright 2026 by I.T. Department of Dawat-e-Islami