Share this link via
Personality Websites!
طرح حسین وجمیل ہوگیا تھا ، معراج کی رات اس کے حسن وجمال میں انتہائی جوش اور جَوبن آگیا تھااور حجر ِاَسْوَد پر قُربان جاؤں کہ جو کعبہ کی کمر میں ایک تِل کی طرح ہے ، معراج کی رات اس میں بھی لاکھوں سجاوٹوں کے رنگ بھرگئے تھے ، معراج کی رات معراج کےدُولہاصَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکی مُبارک ومحترم ومُقدَّس آنکھوں میں خُصُوصی تجلیات تھیں ، معراج کی راتہرطرف سے خُوشیوں کے بادل اُمنڈ کر آرہے تھے ، دِلوں کے موراپنے رنگ دکھا رہے تھے ، معراج کی رات نغمۂ نعت کا ایسا سَماں بن گیا تھا کہ خود حرم بھی وَجْد میں تھا۔ معراج کی رات کعبے کی چھت پر بنا ہوا سنہری پرنالہ جس کا نام ’’میزابِ زَر‘‘ ہے ، جُھومر کی طرح معلوم ہو رہا تھا ، معراج کی راتکَعبۂ مُعظَّمہ چمکدَمک رہا تھااوراس کے خوشبودار غِلاف کو رات کی ٹھنڈی ہوا اُڑا رہی تھی اوراس سے خُوشبو چُرا رہی تھی ، معراج کی رات خوشبوؤں میں بَسا ہوا غلاف ِکعبہ وَجْد میں جُھوم رہا تھا ، معراج کی رات پہاڑیوں کا حُسن و سنگھار بھی کیا خُوب تھاکہ ان کی خُوبصورت وبُلندچوٹیاں ایسی حسین لگ رہی تھیں واہ !واہ! کیا کہنے ، معراج کی رات بادِ صبا نے ان کے سبزے میں ایسی لہریں پیدا کیں کہ ایسا معلوم ہورہا تھا کہ جیسے پہاڑیوں نے سبز رنگ کے دوپٹے اوڑھ رکھے ہیں۔ معراج کی رات نہروں کا حال یہ تھاکہ نہروں نے غسل کرکے جاری پانی کا چمک دار لباس پہن رکھا تھا۔ معراج کی رات معراج کے دُولھا صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے اِسْتقبال کے لئے چاند کی چاندنی کا پُرانا فرش اُٹھا دیا گیا تھااورنُوری مخلوق کی آنکھوں کا زَریں اور زَرْبفت فرش (یعنی سونے اورریشم کے تاروں سے بنا ہوافرش)بچھا دیا گیا تھا۔
پیارے پیارے اسلامی بھائیو!معراج کی رات وہ عظیم اور جگمگاتی رات ہے کہ جس میں ہمارے آقا ، حبیبِ کبریا ، معراج کے دُولہا صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ واٰلِہٖ وَسَلَّمَ کو ایک عظیم مُعْجِزَہ عطا ہوا۔ معراج کی رات تمام
BOOK TOPIC
©Copyright 2026 by I.T. Department of Dawat-e-Islami