Share this link via
Personality Websites!
دَعْوَتِ اِسْلَامی کے مدنی قافلوں کا مُسَافِر بننا بے حد ضَروری ہے۔ کیونکہ ساری دنیا میں نیکی کی دَعْوَت مدنی قافلوں کا مُسَافِر بن کر بھی عام کی جاسکتی ہے۔ خود ہمارے مدنی آقا صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے راہِ خُدا میں مُتَعَدِّد سَفَر کئے ، جن کے دوران آپ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے بَہُت سی تکالیف کا سامنا کیا ، مصیبتیں جھیلیں ، طعنے سنے ، زَخْم سہے ، پَتّھر کھائے ، فاقوں کے سَبَب پیٹ پر پَتّھر باندھے ، لیکن پھر بھی راتوں کو اٹھ اٹھ کر ، رو رو کر لوگوں کی ہِدَایَت کے لئے دُعائیں کیں اور لوگوں کے پاس جاجاکر اِسْلَام کی دَعْوَت کو عام کیا۔ صحابۂ کِرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان کی اَکْثَرِیَّت ایسی تھی ، جنہوں نے سرکارِ مدینہ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم سے عِلْمِ دین حاصِل کیا ، پھر اسے ساری دنیا میں پھیلانے کے لئے راہِ خُدا میں سَفَر اِخْتِیار کیا۔ یہی وجہ ہے کہ صحابۂ کِرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان کے مزارات صِرف مدینہ طَیّبَہ ہی میں نہیں ، بلکہ دنیا کے مُتَعَدّد مَقامات پر بھی مَوجُود ہیں۔ انکے بعد تَابِعِین ، تَبْع تَابِعِین ، اَئِمّہ عُظَّام اور اَولِیائے کِرام رَحِمَہُمُ اللہُ السَّلَام نے نیکی کی دَعْوَت کو عام کرنے کے اس سلسلے کو جس آب و تاب کے ساتھ قائم رکھا ، وہ تاریخ (History) جاننے والوں سے مَـخْفِی نہیں۔ چُنَانْچِہ اکابِریْنِ اِسْلَام کے نَقْشِ قَدَم پر چلتے ہوئے شَیْخِ طَرِیْقَت ، اَمِیْرِ اَہْلِسُنّت دَامَتْ بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہ نے مسلمانوں کی اِصْلَاح کیلئے شب و روز کوشِش کی ، آپ دَامَتْ بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہ ہر اِسْلَامی بھائی کو خُصُوصِی طور پر مَدَنی قافلوں میں سَفَر کی ترغیب دلاتے رہتے ہیں ، اگر ہر اِسْلَامی بھائی انفرادی کوشِش کرنے والے نیک عمل پر عَمَل کرتے ہوئے روزانہ دو۲ اسلامی بھائیوں کو مَدَنی قافلے کی دَعْوَت دے تو مہینے بھر میں 60 اسلامی بھائی ہوئے ، 12 فیصد کامیابی بھی حاصِل ہو تو ہر ذیلی حلقے سے اِنْ شَآءَ اللہ مَدَنی قَافِلہ تیّار ہو سکتا ہے اور اس دینی کام کی بَرَکَت سے پوری دنیا میں دَعْوَتِ اِسْلَامی کی نہ صِرف دھوم مچ جائے گی بلکہ کچھ ہی عرصے میں دَعْوَتِ اِسْلَامی کا یہ پیغام ہر ملک ، ہر صوبے ، ہر شہر ، ہر گاؤں (Village) ، ہر محلے اور ہر گھر میں پہنچ جائے گا۔ اِنْ شَآءَ اللہ
BOOK TOPIC
©Copyright 2026 by I.T. Department of Dawat-e-Islami