Share this link via
Personality Websites!
سُستی نہ برتی جاتی تھی۔ اِسْتِفْسار پر جبریلِ امین عَلَیْہِ السَّلَام نے عرض کی : یہ وہ لوگ ہیں جن کے سر نمازسے بَوجَھل ہو جاتے تھے۔ ([1]) کچھ لوگ ایسے بھی تھے جو آگ کی شاخوں سے لٹکے ہوئے تھے۔ یہ وہ لوگ تھے جو دُنیا میں اپنے والِدَین کو گالیاں دیتے تھے۔ ([2]) حُضُور عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام نےبعض ایسے لوگوں کو بھی دیکھا جن کے ہونٹ اُونٹ کے ہونٹوں کی طرح (بڑے بڑے) تھے ، ان پر ایسے اَفْرادمُقَرَّر تھے جو ان کے ہونٹ پکڑ کر آگ کے بڑے بڑے پتھر ان کے منہ میں ڈالتے اور وہ اُن کے نیچے سے نکل جاتے۔ آپ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے دَرْیَافت کرنے پر جبریلِ امین عَلَیْہِ السَّلَام نے عرض کی : یہ وہ لوگ ہیں جو یتیموں کا مال ظُلماً کھا جاتے ۔ ([3]) اسی طرح وہ لوگ جودُنیا میں اپنے مالوں کی زکوٰۃ نہیں دیتے تھے ، میٹھے آقا ، معراج کے دُولہاصَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے انہیں اس حال میں دیکھا کہ ان کے آگے اور پیچھے چیتھڑے لٹک رہے تھے اور وہ چوپایوں کی طرح چَرتے ہوئے کانٹے دار گھاس ، تُھوْہَر(ايك خاردار اور زہریلا پودا کھارہے تھے) اور جہنّم کے تپے ہوئے (گرم) پتھر نِگل رہے تھے۔ ([4])
پیارے پیارے اسلامی بھائیو!ذرا اِن عذابات پرغور کیجئے اور پھر اپنی ناتوانی وکمزوری پر نظر کیجئے آہ! ہماری کمزوری کا حال تو یہ ہے کہ ہلکا سا بُخار یا سَر میں دَرد ہوجائے تو ہم تڑپ اُٹھتے ہیں ، تو پھر آخرت کے یہ دَرْد ناک عذابات کیسے برداشت کرسکیں گے ؟ہمارے نازُک بدن ہرگز ان عذابات کا سامنا نہیں کرسکتے ، لہٰذا ابھی وَقْت ہے ہوش میں آئیے اورلوگوں کی غیبتیں کرنے ، چُغلیاں کھانے ،
BOOK TOPIC
©Copyright 2026 by I.T. Department of Dawat-e-Islami