Share this link via
Personality Websites!
الْبَقَرہ کی دوآیتیں کفایت کرنے سے مُراد یہ ہے کہ یہ دو آیتیں اس کے اس رات کے قیام (رات کی عبادت)کے قائم مقام ہوجائیں گی یا اس رات اسے شیطا ن سے محفو ظ رکھیں گی۔ ایک قول یہ بھی ہے کہ اس رات میں نازل ہونے والی آفا ت سے بچائیں گی۔ وَاللہُ اَعْلَمُ (فَتْحُ الْبَارِی ، ۱۰ / ۴۸)
حکیمُ الاُمَّت مُفتی احمدیارخانرَحْمَۃُ اللّٰہ ِ عَلَیْہ فرماتے ہیں : (سُوْرَۃُ الْبَقَرہ کی آخری دوآیتیں) دُکھ درد ، رَنج و غم میں کافی ہیں کہ ان کا تلاوت کرنے والا (یعنی سُورۂ بقرہ کی آخری دو آیات کی رات کو تلاوت کرنے والا) اِنْ شَآءَاللہ دُکھ دَرْد سے محفوظ رہتا ہے اور اگر اتفاقاً کبھی آ بھی جائیں تو اللہ مُشکل حل کر دیتا ہے یا تمام دُرود و وظیفوں کی طرف سے کافی ہیں ، یا نمازِ تہجد میں جو ان آیتوں کی تلاوت کیا کرے ، تو بہت سی تلاوت سے کافی ہیں۔ (مِرْاٰۃ ج 3 ، ص 232)
صَلُّو ْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللہُ عَلٰی مُحَمَّد
معراجِ مصطفی کی ایک اور حکمت :
(11) : اللہ پاک نے سب سے پہلے اپنے حبیب صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ واٰلِہٖ وَسَلَّمَ کے نور کو اپنے نور سے پیدا فرمایا اور حضور صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ واٰلِہٖ وَسَلَّمَکے نورکواپنے قُربِ خاص میں رکھا ، جب آپ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ واٰلِہٖ وَسَلَّمَلباسِ بشریت کے ساتھ دُنیا میں تشریف لائے تواس مقام کااِشتیاق ہوا ، لہٰذا دَنیٰ فَتَدَلیّٰ کے مقام سےسکون وقرارپایا۔
BOOK TOPIC
©Copyright 2026 by I.T. Department of Dawat-e-Islami