Share this link via
Personality Websites!
شرف پائیں ، وحی کی ایک قسم یہ ہے کہ اللہ پاک بِلاواسطہ کلام فرمائے اور یہ وحی کی سب سے اعلیٰ قسم ہے ، چنانچہ معراج کی رات اللہ َ پاک نے بِلاواسطہ حضور صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ واٰلِہٖ وَسَلَّمَ سے کلام فرمایا : جیساکہ پارہ 27 سُوْرَۃُ النَّجْم کی آیت 10میں اِرشاد ہوتا ہے :
فَاَوْحٰۤى اِلٰى عَبْدِهٖ مَاۤ اَوْحٰىؕ(۱۰)
تَرْجَمَۂ کنز العرفان : پھر اُس نے اپنے بندے کو وحی فرمائی جو اُس نے وحی فرمائی
کتبِ تفاسیر میں لکھا ہے کہ’’اٰمَنَ الرَّسُولُ‘‘والی آیات جو کہ سُوْرَۃُ الْبَقَرہ کی آخری 2 آیات ہیں ، حضور صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ واٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے معراج کی رات اللہ پاک سے بِلا واسِطہ سُنی ، اسی طرح کچھ سُورَۃ ُالضُّحیٰ اور کچھ سُورَہ اَلَم نَشرَح معراج کی رات سُنی۔ (تفسیر روح البیان سورۃ الشوریٰ ، ج۸ ، ص۳۴۵ )
اے عاشقانِ مصطفی! سُوْرَۃُ الْبَقَرہ کی آخری 2 آیات جو سرورِ کائنات صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ واٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے خالقِ سمٰوٰت سے شبِ معراج قُربِ خاص میں سُنیں ، آئیے! ان کی فضیلت سنئےاور وقتاً فوقتاً ان کی تلاوت بھی کرتے رہیے ۔
حضرت نعمان بن بشیر رَضِیَ اللہُ عَنْہُسے روایت ہے کہ شہنشاہِ مدینہ ، قرارِ قلب و سینہ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ واٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے فرمایا : اللہپاک نے زمین وآسمان کو پیدا کر نے سے دوہزار(2000) سال پہلے ایک کتاب لکھی پھر اس میں سے سُوْرَۃُ الْبَقَرہکی آخر ی دوآیتیں نازل فرمائیں۔ جس گھر میں تین (3) راتیں ان دو آیتوں کو پڑھا جائے گا شیطان اس گھر کے قریب نہ آئے گا۔ (تِرْمِذِی ، ۴ / ۴۰۴ ، حدیث : ۲۸۹۱)
حضرت ابُومسعود رَضِیَ اللہُ عَنْہُ سے روایت ہے کہ حضور صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ واٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے فرمایا : جوشخص سُوْرَۃُ الْبَقَرہکی آخری دو آیتیں رات میں پڑھے گا وہ اسے کفایت کریں گی۔ ( بُخارِی ، ۳ / ۴۰۵ ، حدیث : ۵۰۰۹)
پیارے پیارے اسلامی بھائیو!سُوْرَۃُ
BOOK TOPIC
©Copyright 2026 by I.T. Department of Dawat-e-Islami