Share this link via
Personality Websites!
العالمین کے تَوَسُّط سے ہوا ہے ، آپ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ واٰلِہٖ وَسَلَّمَاس سودے کے وکیل ہیں ، آپ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ واٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے مؤمنین کی مَبیع(مؤمنین کی جانوں)کوتو ملاحظہ فرمایا تھا ، معراج کی رات عوض(جنّت)کو دیکھنے کے لیے تشریف لے کر گئے۔
صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللہُ عَلٰی مُحَمَّد
معراجِ مصطفی کی ایک اور حکمت :
(7) : دُرَّۃُ النَّاصِحیِن میں معراج کی ایک حکمت یہ بھی بیان کی گئی ہے کہ زمین و آسمان کا مُکالَمہ ہواتوزمین نے آسمان پرفخر کرتے ہوئے کہا : میں تجھ سے افضل ہوں ، اس لیے کہ اللہ پاک نے شہروں ، دریاؤں ، نہروں ، درختوں ، پہاڑوں اوردیگر کئی چیزوں سے مجھے زِینت عطا کی ہے۔
آسمان نے جواب دیا : میں تجھ سے بہتر ہوں ، اس لیے کہ سُورج ، چاند ، ستارے ، آسمان ، بُرُوج ، عرش و کُرسی اور جنّت مجھ میں ہے۔ زمین نے کہا : مجھ میں کعبہ ہے ، جس کی زِیارت اور طواف انبیاء و مُرسلین ، اولیاء اور عام مومنین کرتے ہیں۔ آسمان نے جواب دِیا : مجھ پر بَیتُ المَعمُور ہے ، اس کا طواف ملائکہ یعنی فرشتے کرتے ہیں اور مجھ میں جنّت ہے جو تمام انبیاء و مُرسلین عَلَیْہمُ السَّلَام ، تمام اولیاء و صالحین رَحْمَۃُ اللّٰہ ِ عَلَیْہم اَجْمَعِیْن کی مقدس رُوحوں کا ٹھکانا ہے۔
زمین نے آسمان کو کہا : سَیِّدُالمرسلین ، خاتمُ النَبیّن ، حبیبِ رَبُّ العالمین صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ واٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے مجھ میں اِقامت فرمائی اور آپ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ واٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے شریعت مجھ پر جاری فرمائی ہے۔
جب آسمان نے سُنا یہ تو جواب دینے سے عاجز آ گیا اور چُپ ہو گیا۔ پھر آسمان نے اللہ پاک کی بارگاہ میں عرض کی : اے اللہپاک تُو ہی مُضْطَر و پریشان کی مدد فرماتا ہے ، جب وہ تجھے پُکارے ، پھر
BOOK TOPIC
©Copyright 2026 by I.T. Department of Dawat-e-Islami