Share this link via
Personality Websites!
اِنَّاۤ اَعْطَیْنٰكَ الْكَوْثَرَؕ(۱)
تَرْجَمَۂ کنز العرفان : اے محبوب بیشک ہم نے تمہیں بے شمار خوبیاں عطا فرمائیں۔
بُخاری شریف کی حدیثِ پاک میں ہے حضور صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ واٰلِہٖ وَسَلَّمَ فرماتے ہیں : میں سورہا تھا کہ زمین کے تمام خزانوں کی کُنجیاں لائی گئیں اور میرے دونوں ہاتھوں میں رکھ دی گئیں۔ (بخاری ، ۲ / ۳۰۳ ، حدیث : ۲۹۷۷)رَسُوْلُ اللہ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ واٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے اِرشاد فرمایا : “ میں (اللہ پاک کے خزانوں کا) خازِن ہوں۔ “ ( مسلم ، ۵۱۶ / ۱۰۳۷)
حُضُور عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَاماللہپاک کی عطاسے اس کی تمام سلطنت کے مالِک ہیں اسی لئے جنَّت کے پتےّ پتّے پر ، حُوروں کی آنکھوں میں غرضیکہ ہرجگہ لَاۤ اِلٰہَ اِلَّا اللہُ مُحَمَّدٌ رَّسُوْلُ اللہِ لکھا ہوا ہے : یعنی یہ چیزیں اللہ (پاک) کی بنائی ہوئی ہیں اور مُحَمَّدٌ رَّسُوْلُ اللہِ کو دی ہوئی ہیں۔ (تو معراج کروانے میں )اللہ پاک کی مرضی یہ تھی کہ (دوجہانوں کے خزانوں کے )مالِک کو ا س کی ملکیت دِکھا دی جائے۔ ([1]) چنانچہ اس لئے معراج کی رات یہ سیر کروائی گئی ۔
صَلُّو ْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللہُ عَلٰی مُحَمَّد
معراجِ مصطفی کی ایک اور حکمت :
(5) : معراجِ مصطفی کی حکمتیں جو علما نے بیان فرمائیں ، اُن میں سے ایک حکمت یہ بھی تھی کہ محبوبِ کریم ، رؤفٌ رَّحیم صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ واٰلِہٖ وَسَلَّمَ کی عظمت تمام کائنات پرظاہر ہو ، اِسی لیے جب مسجدِ اقصٰی پہنچے تو تمام انبیائے کرام عَلَیْہِمُ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلاَم کی اِمامت فرمائی تاکہ تمام انبیاء عَلَیْہِمُ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلاَم پرآپ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ واٰلِہٖ وَسَلَّمَ
BOOK TOPIC
©Copyright 2026 by I.T. Department of Dawat-e-Islami