Share this link via
Personality Websites!
زِیادتیوں سے روکنے اور ان کے ظُلم وسِتَم پر مَلامت کرنے والا بھی کوئی نہ رہا ، جس کے باعث ان کی اِیذا رَسانیاں(یعنی ان کی طرف سے تکلیفیں) ناقابلِ برداشت حد تک بڑھ گئیں۔
رسولِ اَکْرَم ، نُوْرِ مُجَسَّم صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمطائف تشریف لے گئے کہ شاید وہاں کے لوگ آپ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی اس دعوت کو قَبول کرنے کے لیے آمادہ ہوجائیں ، لیکن وہاں آپ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے ساتھ جو ظالمانہ برتاؤ کیا گیا ، اس کا اندازہ نہیں لگایا جا سکتا ، ان حالات میں جب بظاہر ہر طرف مایُوسی کا اَندھیرا پھیل چُکا تھا اور ظاہری سہارے بھی ٹُوٹ چکے تھے ، رحمتِ الٰہی نے اپنی عَظْمَت و کبریائی کی واضح نشانیوں کا مُشاہَدہ کرانے کے لیے اپنے محبوب صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کو عالَمِ بالا کی سیر کے لیے بُلایا ، تاکہ حالات کی ظاہری ناسازگاری آپ صَلَّی اللہ عَلَیْہِ واٰلِہٖ وَسَلَّمَ کو مزیدغمگین نہ کرسکے ۔
صَلُّو ْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللہُ عَلٰی مُحَمَّد
معراجِ مصطفی کی ایک اور حکمت :
مشہور مُفَسِّر قرآن ، حکیمُ الْامَّت مُفتی احمد یار خان نعیمی رَحْمَۃُ اللہِ عَلَیْہ واقِعۂ معراج کی حکمتیں بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں :
(2)... وہ تمام مُعْجِزَات اور دَرَجات جو انبیائے کرام عَلَیْہِمُ السَّلَام کو علیحدہ علیحدہ عطا فرمائے گئے ، وہ تمام بلکہ اُن سے بڑھ کر(کئی مُعْجِزَات)حُضُور عَلَیْہِ السَّلَام کو عطا ہوئے۔ اس کی بہت سی مِثالیں ہیں : حضرتِ مُوسیٰ کَلِیْمُ اللہ( عَلَیْہِ السَّلَام) کو یہ دَرجہ مِلا کہ وہ کوہِ طُور پر جا کر رَبّ ( کریم) سے کَلام کرتے تھے ، حضرتِ عیسیٰ عَلَیْہِ السَّلَام چوتھے آسمان پر بُلائے گئے اور حضرتِ اِدْرِیس عَلَیْہِ السَّلَام جنَّت میں بُلائے گئے تو حُضُور عَلَیْہِ السَّلَام کو مِعْراج کرائی گئی ، جس میں اللہ پاک سے کلام بھی ہوا ، آسمان کی سیر
BOOK TOPIC
©Copyright 2026 by I.T. Department of Dawat-e-Islami