Share this link via
Personality Websites!
حدیثِ پاک میں ہے : اِنَّمَا الْاَعْمَالُ بِالنِّیّات اَعْمَال کا دار ومدار نیتوں پر ہے۔ ([1])
پیارے اسلامی بھائیو! اچھی نیت بندے کو جنّت میں پہنچا دیتی ہے ، بیان سننے سے پہلے کچھ اچھی اچھی نیتیں کر لیجئے! مثلاً نیت کیجئے : * رِضَائے اِلٰہی کے لئے بیان سُنوں گا* عِلْمِ دین سیکھوں گا * پورا بیان سُنوں گا * ادب سے بیٹھوں گا * نصیحت حاصِل کروں گا * اَحْمَدِ مجتبیٰ ، مُحَمَّد مصطفےٰ صَلّی اللہُ عَلَیْہ وآلِہ وسَلَّم کا نامِ پاک سُن کر درودِ پاک پڑھوں گا۔
صَلُّوْا عَلَی الْحَبیب! صَلَّی اللّٰہُ عَلٰی مُحَمَّد
نعتِ مصطفےٰ صَلّی اللہُ عَلَیْہِ وَآلِہٖ وَسَلَّم مت چھپاؤ...!
پیارے اسلامی بھائیو! اللہ پاک کے نبی حضرت یعقوب عَلَیْہِ السَّلَام کی اَوْلاد کو بنی اسرائیل کہا جاتا ہے ، پارہ : 1 ، سُوْرَۂِ بَقَرَہ ، آیت : 42 میں اللہ پاک نے بنی اسرائیل کو فرمایا :
وَ لَا تَلْبِسُوا الْحَقَّ بِالْبَاطِلِ وَ تَكْتُمُوا الْحَقَّ وَ اَنْتُمْ تَعْلَمُوْنَ(۴۲) (پارہ : 1 ، سورۂ بَقَرہ : 42)
ترجَمۂ کنزُ الایمان : اور حق سے باطِل کو نہ ملاؤ اور دیدہ ودانستہ (یعنی جان بوجھ کر) حق نہ چھپاؤ ۔
اس آیتِ کریمہ میں بنی اسرائیل کو دو باتوں سے منع کیا گیا ہے : ❶ : حق کو باطِل سے ملانا نہیں ہےاور ❷ : حق کو چھپانا نہیں ہے۔
آیتِ کریمہ میں دو مرتبہ لفظِ حق استعمال ہوا ہے ، اس جگہ حق سے کیا مراد ہے؟ اس کی وضاحت کرتے ہوئے مُفَسِّرِینِ کرام فرماتے ہیں : نَعْتُ مُحَمَّدٍ فِی التَّوْراۃِ یعنی اس جگہ حق سے مراد حُضُور جانِ کائنات ، فخرِ موجودات صَلّی اللہُ عَلَیْہِ وَآلِہٖ وَسَلَّم کی وہ نعتِ پاک ہے ، جو
BOOK TOPIC
©Copyright 2026 by I.T. Department of Dawat-e-Islami