Share this link via
Personality Websites!
ہیں جیسے ظاہری بھوکے بھیڑیئے بکریوں کو تباہ کرتے ہیں کہ انسان مال کی حرْص میں حرام و حلال کی تمیز نہیں کرتا ، اپنے عزیز اَوقات کو مال حاصِل کرنے میں ہی خَرْچ کرتا ہے ، پھر عزّت حاصِل کرنے کے لئے ایسے جَتَن کرتا ہے جو بالکل خلافِ اسلام ہیں جیسا آج مِمْبری ، وَزارت چاہنے والوں کو دیکھا جارہا ہے۔ (مرآۃ المناجیح ، ۷ / ۱۹)
پیارے پیارے اسلامی بھائیو! احادیثِ مبارکہ اوران کی شَرْح کی روشنی میں یہ بات واضح ہوگئی کہ حرْص کے باعِث انسان کے دِین و اِیمان کو طرح طرح کے خطرے لاحِق ہوجاتے ہیں اور یہ اِس قدَر تباہ کُن باطنی بیماری ہے کہ اِس میں مبُتلا ہوکر انسان جھوٹ ، ظلْم اور قَطْعِ رَحمی جیسے کبیرہ گُناہوں کا مُرْتَکِب ہو جاتا ہے ، لہٰذا عافِیَّت اِسی میں ہے کہ اپنا بینک بیلنس بڑھانے ، خزانوں کےاَنبار لگانے ، عُمدہ و مہنگی گاڑیوں میں گھومنے ، دُوسروں کی جائیدادیں ہتھیانے اورٹھاٹ باٹ سے رہنے کی حرْص پالنے کے بجائےاللہ پاک کی طرف سے جو نعمتیں عطا کی گئیں ہیں اُنہی پر قناعت کرتے ہوئے اُس کی رِضا پر راضی رہتے ہوئے حرْص کی آلودَگیوں سے خُود کو بچانا چاہئے کہ جو خُوش نصیب لوگ حرص و لالچ سے اپنے آپ کو دُور رکھتے ہیں اُن کے لئے کامیابی کی بِشارت ہے چُنانچہ پارہ 28 سُورۃُ الحشر کی آیت نمبر 9 میں اِرشادِ خُداوندی ہے :
وَ مَنْ یُّوْقَ شُحَّ نَفْسِهٖ فَاُولٰٓىٕكَ هُمُ الْمُفْلِحُوْنَۚ(۹) (پ ۲۸ ، الحشر : ۹)
تَرْجَمَۂ کنز العرفان : اور جو اپنے نَفْس کے لالچ سے بچا لیا گیا تو وہی لوگ کامیاب ہیں۔
شيخُ الحديث حضرت علّامہ عبدُالمُصطَفیٰ اَعْظَمی رَحْمَۃُ اللّٰہ ِعَلَیْہ فرماتے ہیں : لالچ بہت ہی بُری خَصْلَت اور نِہایَت خراب عادت ہے ، اللہتعالیٰ کی طرف سے بندے کو جو رِزْق و نعمت اور مال و دَولت یا جاہ (یعنی عزّت )ومَرتَبہ مِلا ہے ، اُس پر راضی ہو کر قناعت کرلینی چاہئے۔ دُوسروں کی دَولتوں اور نعمتوں کو دیکھ دیکھ کر خُود بھی اُس کو حاصِل کرنے کے پھیر میں پریشان حال رہنا اور غلَط و صحیح ہر قسم کی تدبیروں
BOOK TOPIC
©Copyright 2026 by I.T. Department of Dawat-e-Islami