Share this link via
Personality Websites!
اُس کی ناک میں نکیل ڈال کر جہاں چاہیں گے لے جائیں گے ، وہ اُس سے اپنی عزّت چاہیں گے حتی کہ حَرِیْص رُسوا ہوجائے گا اور اِسی مَحَبَّتِ دُنیا کے باعِث جب بھی وہ اُن کے سامنے سے گُزرے گا تو اُنہیں سلام کرے گااور جب وہ بیمار ہوں گے تو عِیادت کرے گا مگر اُس کے یہ تمام اَفْعال خُدا کی رِضا کے لئے نہیں ہوں گے۔ ( مکاشفۃ القلوب ، الباب الثالث و الثلاثون ، فی فضل القناعۃ ، ص۱۲۴ بتغیر قلیل)آئیے! حرْص کی آفتوں پر مَبْنِی تین (3)رِوایات سُنتے اور نصیحت کے مدنی پُھول چُنتے ہیں۔ چُنانچہ
حرْص کے مُتَعَلِّق تین (3)فَرامینِ مُصْطَفٰے صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ واٰلِہٖ وَسَلَّمَ
1۔ لوگ کہتے ہيں يا تم ميں سے کوئی کہنے والا کہتا ہے کہ لالچی انسان ظالم سے زيادہ دھوکے باز ہوتا ہے حالانکہ اللہ پاک کے نزديک لالچ سے بڑا ظلم کون سا ہے ، اللہ پاک اس بات پر اپنی عزّت ، عظمت اورجلال کی قسم بیان فرماتا ہے کہ جنّت ميں کوئی لالچی یا بَخیل شخص داخل نہيں ہو گا۔ (کنز العمال ، کتاب الاخلاق ، الفصل الاول ، حرف الباء ، البخل من الاکمال ، الجزء : ۳ ، ۲ / ۱۸۲ ، حدیث : ۷۴۰۴)
2۔ لالچ سے بچتے رہو کيونکہ تم سے پچھلی قوموں کو لالچ ہی نے ہلاکت ميں ڈالا ، لالچ نے اُنہيں جُھوٹ پر اُبھارا تو وہ جُھوٹ بولنے لگے ، ظلْم پر اُبھارا تو ظلْم کرنے لگے اور قَطْعِ رَحمی کا خيال دِلايا تو قَطْعِ رَحمی کرنے لگے۔ (کنزالعمال ، کتاب الاخلاق ، الفصل الاول ، حرف الباء ، البخل من الاکمال ، الجزء : ۳ ، ۲ / ۱۸۲ ، حدیث : ۷۴۰۲)
3۔ دو بھوکے بھیڑیئے جنہیں بکریوں میں چھوڑ دِیا جائے وہ اِتنا نُقْصان نہیں پہنچاتے جتنا کہ مال و دَولت کی حِرْص اور حُبِّ جاہ (عزّت وشہرت کی مَحَبَّت)انسان کے دِین کو نُقْصان پہنچاتے ہیں۔ (ترمذی ، کتاب الزھد ، باب ۔ ت : ۴۳ ، ۴ / ۱۶۶ ، حدیث : ۲۳۸۳)
مُفَسِّرِ شَہِیر ، حکیمُ الاُمَّت مُفتی اَحمد یار خان رَحْمَۃُ اللّٰہ ِعَلَیْہ اِس حدیثِ پاک کے تَحت فرماتے ہیں : نہایت نفیس تَشبِیْہ ہے۔ مقصد یہ ہے کہ مومن کا دِین گویا بکری ہے اور اُس کی حرْصِ مال (اور) حرْصِ عزّت گویا دو بھوکے بھیڑیئے ہیں مگر یہ دونوں بھیڑیئے مومن کے دِین کو اِس سے زیادہ بَرباد کرتے
BOOK TOPIC
©Copyright 2026 by I.T. Department of Dawat-e-Islami