Share this link via
Personality Websites!
لئے خطرے کی گھنٹی تھی کہ وہ شخص ہوشیار ہو جاتا اور آئندہ حرْص سے ہمیشہ کے لئے کَنارہ کَشی اِختیار کرتے ہوئے آئندہ ایسے دَرْد ناک واقعات کی روک تھام کا اِنتظام کرتا مگر افسوس! اُس نے اِس واقعے سے عبرت حاصِل کرنے کے بجائے اُسے نظر انداز کردِیا کیونکہ اُس بد نصیب پر تو سونے کا انڈہ ملنے کی حرْص کا خُمار چڑھا ہوا تھا لہٰذا سانپ نے اِسی پر بَس نہ کِیا بلکہ حَرِیْص کی غفلت کا بھرپور فائدہ اُٹھاتے ہوئے اُس کے بیٹے اور بیوی کو بھی مَوْت کے گھاٹ اُتار دِیا۔ بھائیوں اور دوستوں کی نصیحت کے باوُجود حرْص کی وجہ سے وہ اُس سانپ کو نہ مار سکا جس کے نتیجے میں وہ خُود بھی مَوْت کے مُنہ میں جاپہنچا۔
صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللہُ عَلٰی مُحَمَّد
قرآنِ کریم میں پارہ 5 سُوْرَۃُ النِّسَآء کی آیت نمبر 128میں حرْص کا ذِکْر اِن اَلفاظ کے ساتھ کِیا گیا ہے :
وَ اُحْضِرَتِ الْاَنْفُسُ الشُّحَّؕ- (پ۵ ، النسآء : ۱۲۸)
تَرجَمۂ کنز العرفان : اور دل کو لالچ کے قریب کر دیا گیا ہے ۔
تفسیر ِخازِن میں اِس آیتِ مُبارَکہ کے تَحت ہے : لالچ دل کا لازِمی حِصَّہ ہے کیونکہ یہ اِسی طرح بنایا گیا ہے۔
(تفسیرِ خازن ، پ۵ ، النسآء ، تحت الآیۃ : ۱۲۸ ، ۱ / ۴۳۷)
حرْص کسی بھی چیز کی ہوسکتی ہے :
پیارے پیارے اسلامی بھائیو!عام طور پر یہی سمجھا جاتاہے کہ حرْص کا تَعَلُّق صِرْف مال و دَولت کے ساتھ ہوتا ہے حالانکہ ایسا نہیں کیونکہ حرْص تو کسی بھی چیز کی مزید خَواہش کرنے کا نام ہے خواہ وہ چیز مال ہو یا کچھ اَوْر ، جیساکہ شيخُ الحديث حضرتِ علّامہ عبدُالمُصطَفیٰ اَعْظَمی رَحْمَۃُ اللّٰہ ِ عَلَیْہ لکھتے ہیں : لالچ اور حرْص کا جذبہ خوراک ، لباس ، مکان ، سامان ، دَولت ، عزّت ، شہرت الغرض ہر نعمت میں
BOOK TOPIC
©Copyright 2026 by I.T. Department of Dawat-e-Islami