Share this link via
Personality Websites!
والی بات اپنے بھائیوں اور دوستوں کو بتا ہی دی۔ سب نے یہی مشورہ دِیا کہ تم نے بہت بڑی غَلَطی کی ، اب بھی وقت ہے سنبھل جاؤ اور جتنی جلدی ہوسکے اُس خطرناک سانپ کو مارڈالو۔ چُنانچہ گھر آکر وہ شخص سانپ کو مارنے کے لئے گھات لگا کر بیٹھ گیا۔ اچانک اُسے سانپ کے بِل کے قریب ایک قیمتی موتی نظر آیا جسے دیکھ کر اُس کی لالچی طبیعت خُوش ہوگئی۔ دَولت کی ہَوَس نے اُسے سب کچھ بُھلا دِیا ، وہ کہنے لگا : وقت طبیعتوں کو بدل دیتا ہے ، یقیناً اُس سانپ کی طبیعت بھی بدل گئی ہوگی کہ جس طرح یہ سونے کے انڈوں کے بجائے اب موتی دینے لگا ہے ، اِسی طرح اُس کا زَہْر بھی ختم ہوگیا ہوگا لہٰذا اب مجھے اُس سے کوئی خطرہ نہیں۔ یہ سوچ کر اُس نے سانپ کو مارنے کا اِرادہ تَرْک کردِیا۔ روزانہ ایک قیمتی موتی ملنے پر وہ لالچی شخص بہت خُوش رہنے لگا اور سانپ کی پرانی دھوکے بازی کو بُھول گیا۔ ایک دن اُس نے سارا سونا اور موتی ایک برتن میں ڈال کر اُسے دَفنا دِیا اور اُس جگہ پر سَر رکھ کر سوگیا۔ اُسی رات سانپ نے اُسے بھی ڈَس لِیا۔ جب اُس کی چیخیں بلند ہوئیں تو اُس کے پڑوسی ، رِشتے دار اور دوست اَحْباب بھاگم بھاگ وہاں پہنچے اور اُس کی حالت دیکھ کر کہنے لگے کہ تم نے اُسے مارنے میں سُستی کی اور لالچ میں آکر اپنی جان داؤ پر لگادی۔ لالچی شخص شرْم کے مارے کچھ نہ بول سکا ، سونے سے بھرا برتن نکال کر اُن کے حوالے کر دِیا جسے دیکھ کر وہ سب کہنے لگے کہ آج کے دن یہ مال تیرے کسی کام کا نہیں کیونکہ اب یہ دُوسروں کا ہوجائے گا پھر کچھ ہی دیر میں اُس کا انتقال ہوگیا۔
( عیون الحکایات ، الحکایۃ الثامنۃ بعد الخمسمائۃ ، ص۴۳۹ ، ملخصاً)
صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللہُ عَلٰی مُحَمَّد
پیارے پیارے اسلامی بھائیو! آپ نے سنا کہ مال و دَولت کی حرْص نے ہنستے بستے گھرانے کو اُجاڑ کر رکھ دِیا۔ یقیناً حَرِیْص کی نِگاہ مَحدود ہوتی ہے جو صِرْف وقتی فائدہ دیکھتی ہے جس کی وجہ سے وہ دُرُست فیصلے کرنے میں ناکام رہتا ہے اور نُقْصان اٹھاتا ہے۔ بیان کردہ حکایت میں گھر کے سربراہ کو سنبھلنے کے کئی مَوَاقِع ملے۔ یُوں کہ جب پہلے پہل گدھے اور غُلام کو سانپ نے شِکار کِیا تھا تو یہی اُس کے
BOOK TOPIC
©Copyright 2026 by I.T. Department of Dawat-e-Islami