Share this link via
Personality Websites!
میں(یعنی اُن کی وفات سے کچھ عرصہ قَبْل) اُن کا مُشاہَرہ (یعنی وظیفہ)بڑھا تھا تو یہ میرے گھر خودتشریف لائے ۔ انتہائی پریشانی کے عالَم میں تھے۔ مجھ سے فرمانے لگے کہ میری تنخواہ کافی بڑھ گئی ہے ، مجھے اِس زائد رقم کی حاجت نہیں ہے ، لہٰذا مجھ پر کرم کِیا جائے اور میرا مُشاہَرہ (یعنی وظیفہ)نہ بڑھایا جائے۔ اپنے اِنتقال سے کچھ عرصہ قبْل مُفتیِ دعوتِ اسلامی رَحْمَۃُ اللّٰہ ِعَلَیْہ نے اپنی اسکوٹر (موٹر سائیکل) اور لیپ ٹاپ(Laptop) ، کمپیوٹروغیرہ سب بیچ دِیا تھا اور فرمایاکہ اب مجھے اِس کی ضرورت نہیں ہے۔ اِسی طرح ایک مرتبہ جب آپ کرائے پر مکان لینا چاہ رہے تھے تو کسی نے مَشْوَرہ دِیا کہ آپ مکان خرید کیوں نہیں لیتے ؟ تو فرمایا کہ مُخْتَصَر زندگی ہے ، کِرائے کامکان ہی کافی ہے۔ ( مفتی دعوت اسلامی ، ص۴۴)
سُبْحٰنَ اللہ! آپ نے سنا کہ اللہ پاک کے نیک بندوں کی سوچ کس قدر عُمدہ ہُوا کرتی تھی کہ اگر اُنہیں جائز طریقے سے بھی ضرورت سے زائدمال وغیرہ مِل رہا ہوتا تو پریشان ہوجاتے اور حتّی الاِمْکان مالِ دُنیا کو اپنے آپ سے دُور رکھتے۔ آئیے اِس ضمن میں شیخِ طریقت ، اَمِیْرِ اہلسُنّت دَامَتْ بَـرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہ کی مدنی سوچ اور مالِ دُنیا سے بے رغبتی کے بارے میں بھی سُنتے ہیں :
اَمِیْرِ اَہلسنّت کی دُنیا سے بے رَغْبَتی
شیخِ طریقت ، اَمِیْرِ اَہلسنّت ، بانیِ دعوتِ اسلامی حضرتِ علّامہ مَولانا ابو بلال محمد الیاس عطار قادِری رَضَوِی ضیائی دَامَتْ بَـرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہ کے کُرتے پر سینے کی طرف دو جیبیں ہوتی ہیں۔ مِسْواک شریف رکھنے کے لئے آپ دَامَتْ بَـرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہاپنے اُلٹے ہاتھ(یعنی دل کی جانب) والی جیب کے برابر ایک چھوٹی سی جیب بنواتے ہیں۔ اِس کا سبب آپ دَامَتْ بَـرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہ نے یہ اِرشاد فر مایا کہ میں چاہتا ہوں کہ یہ آلۂ اَدَائے سنّت (یعنی مِسْواک)میرے دل سے قریب رہے۔ اِس کے بَرْعَکْس دُنْیَوِی دَولت سے بے رَغْبَتی کا اندازہ اِس بات سے لگائیے کہ آپ دَامَتْ بَـرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہ کو دیکھا گیا ہے کہ جب کبھی ضرورتاً جیب میں رَقَم رکھنی پڑے تو سیدھے ہاتھ والی جیب میں رکھتے ہیں۔ اِس کی حکمت دَرْیافْت کرنے پر فرمایا : میں اُلٹے ہاتھ والی
BOOK TOPIC
©Copyright 2026 by I.T. Department of Dawat-e-Islami