Share this link via
Personality Websites!
دائمی خزانے کی بَرَکات ہیں ۔ نیز یہ بھی پتا چلا کہ ہمارے پیارے آقا ، مدینے والے مُصْطَفٰے صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ واٰلِہٖ وَسَلَّمَنے بھی اپنے اہل و عیال کے لئے صرف بقدرِ ضرورت رِزق عطا ہونے کی دُعا مانگی ، لہٰذا ہمیں بھی چاہئے کہ قلیل وسائل پر قناعت کرکے اِس کی بَرَکتیں حاصِل کریں۔ ہمارے بُزرگانِ دین رَحْمَۃُ اللّٰہ ِعَلَیْہِمْ اَجْمَعِیْن سراپا قناعت ہُوا کرتے تھے ، اُن کے نزدیک مال کی کوئی وَقْعَت و اَہَمِّیَّت نہ تھی یہی وجہ ہے کہ وہ حضرات اللہ پاک کی عطا پر راضی رہتے ہوئے نِہایت سادَگی سے زِندگی گُزارا کرتے تھے۔ آئیے!آپ کی ترغیب و تَحْرِیْص کے لئے قناعت پسندی کے دو (2)انتہائی دلچسپ اور نصیحت آموز واقعات عَرْض کرتا ہوں ۔ چُنانچہ
ایک ولیِ کامِل کا اندازِ قناعت
مکتبۃُ المدینہ کی کتاب “ فَیْضانِ سُنّت “ جِلد اَوَّل صَفْحَہ491پرشیخِ طرِیقت ، اَمِیْرِ اَہلسنّت ، بانیِ دعوتِ اسلامی حضرتِ علّامہ مولانا محمد الیاس عطّار قادِری رَضَوِی ضیائی دَامَتْ بَـرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہ فرماتےہیں : اپنے دَور کے جَیِّد عالِم حضرت خلیل بصری رَحْمَۃُ اللّٰہ ِ عَلَیْہ کی خدمت میں اَہواز سے اَمِیْر(یعنی حاکِم) سُلَیْمان بن علی کا نُمائندۂ خُصوصی حاضر ہو کر عَرْض گُزار ہُوا : شہزادوں کی تعلیم و تَرْبِیَت کیلئے حاکِم نے آپ کو شاہی دربار میں طَلَب فرمایا ہے۔ حضرتِ خلیل بصری رَحْمَۃُ اللّٰہ ِعَلَیْہ نے سُوکھی روٹی کا ٹکڑا دِکھاتے ہوئے جواب اِرشاد فرمایا : میرے پاس جب تک یہ سُوکھی روٹی کا ٹکڑا موجود ہے مجھے دربارِ شاہی کی چاکَری کی کوئی حاجت نہیں۔
مُفتیِ دعوتِ اسلامی کی قناعت پسندی
اسی طرح مُفتیِ دعوتِ اسلامی ، مُفتی محمد فاروق عطاری المدنیرَحْمَۃُ اللّٰہ ِعَلَیْہ کا جذبۂ قناعت بھی حیرت انگیز اور لائقِ تقلید تھا۔ جامعۃُ المدینہ ہو یا دارُالاِفتاء ، مُفتیِ دعوتِ اسلامی رَحْمَۃُ اللّٰہ ِعَلَیْہ نے کبھی تنخواہ بڑھانے کا مُطالَبَہ نہیں کِیا۔ مرکزی مجْلسِ شوریٰ کے نگران مُدَّ ظِلُّہُ الْعَالِی کا بیان ہے کہ حال ہی
BOOK TOPIC
©Copyright 2026 by I.T. Department of Dawat-e-Islami