Share this link via
Personality Websites!
نبیوں کے سُلطان ، رحمتِ عالمیان صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ واٰلِہٖ وَسَلَّمَ کا فرمانِ ذیشان ہے : لَيْسَ الْغِنٰى عَنْ كَثْـرَةِ الْعَرَضِ ، وَلَكِنَّ الْغِنٰى غِنَى النَّفْسِ یعنی تونگری (مالداری)یہ نہیں کہ سازوسامان کی کثرت ہو بلکہ اَصْل تونگری تو دل کا تونگر (یعنی مالدار )ہوناہے ۔ (بخاری ، کتاب الرقاق ، باب الغنی غنی النفس ، ۴ / ۲۳۳ ، حدیث۶۴۴۶)
حضرتِ عبدُاللہ بن عَمْرو رَضِیَ اللہُ عَنْہُمَا فرماتے ہیں ، نبیِ اکرم ، نُورِ مُجَسَّم صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ واٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے اِرشاد فرمایا : قَدْ اَفْلَحَ مَنْ اَسْلَمَ ، وَرُزِقَ كَفَافًا ، وَقَنَّعَهُ اللهُ بِمَا اٰتَاهُ یعنی بے شک کامیاب ہو گیا وہ شخص جو اِسلام لایا اور اُسے بَقَدْرِ کِفایت رِزْق دِیا گیا اور اللہ پاک نے اُسے جو کچھ دِیا اُس پر قناعت بھی عطا فرمائی۔ (مسلم ، کتاب الزکاۃ ، باب فی الکفاف والقناعۃ ، ص۵۲۴ ، حدیث : ۱۰۵۴)
رَحمتِ عالَم ، نورِ مُجَسَّم صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ واٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے اِرشاد فرمایا : اَلْقَنَاعَۃُ کَنْـزٌ لَا یَفْنٰی یعنی قناعت کبھی نہ خَتْم ہونے والاخزانہ ہے ۔ ( الزھد الکبیر ، ص۸۸ ، حدیث : ۱۰۴)
دُعائے رَسُول
حضرتِ ابو ہُریرہ رَضِیَ اللہُ عَنْہُ سے مَرْوِی ہے کہ تاجدارِ رِسالت ، شَہَنْشاہِ نُبوّت صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ واٰلِہٖ وَسَلَّمَنے دُعا کی : اَللّٰھُمَّ اجۡعَلۡ رِزۡقَ اٰلِ مُحَمَّدٍ قُوۡتاً یعنی اے اللہ ! محمد (صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ واٰلِہٖ وَسَلَّمَ)کی آل کوصرف ضرورت کے مُطابق رِزق عطا فرما۔ ( مسلم ، کتاب الزکاۃ ، باب فی الکفاف والقناعۃ ، ص۵۲۴ ، حدیث : ۱۰۵۴)
پیارے پیارے اسلامی بھائیو!بیان کردہ رِوَایات میں اُن لوگوں کے لئے ڈھارس ہے جو قلیل وسائل و کم آمدنی کا رونا رونے کے بجائے بقدرِ ضرورت رِزق و مال پر قناعت کرتے ہوئے اللہ کی رِضا پر راضی رہتے ہیں اور زبان پر شِکوۂ رَنج و اَلَم لانے سے بچتے ہیں۔ یقیناً یہ سب اِسی قناعت کے
BOOK TOPIC
©Copyright 2026 by I.T. Department of Dawat-e-Islami