Share this link via
Personality Websites!
نہیں آنی چاہئے ، البتّہ دُنیاوی مُعاملات میں قناعت کرنا اچھی چیز ہے۔ آئیے!قناعت کی تعریف اور اُس کی فضیلت کے بارے میں سُنتے ہیں۔
شيخُ الحديث حضرتِ علّامہ عبدُالمُصطَفیٰ اَعْظَمی رَحْمَۃُ اللّٰہ ِعَلَیْہ فرماتے ہیں کہ انسان کو جو کچھ خُدا کی طرف سے مِل جائے اس پر راضی ہو کر زندگی بسر کرتے ہوئے حرص اور لالچ کو چھوڑ دینے کو قناعت کہتے ہيں۔ ( جنتی زیور ، ص۱۳۶بتغیر قلیل)جبکہ علّامہ مِیْر سَیِّد شریف جُرجانی حَنَفی رَحْمَۃُ اللّٰہ ِعَلَیْہ قناعت کی تعریف بیان کرتے ہوئے اِرشاد فرماتے ہیں : ھِـيَ السُّکُوْنُ عِنْدَ عَدَمِ الْمَاْلُوْفَاتِ یعنی روزمرّہ اِسْتِعْمال ہونے والی چيزوں کے نہ ہونے پر بھی راضی رہنا قناعت ہے۔ ( التعريفات للجرجانی ، باب القاف ، تحت اللفظ : القناعۃ ، ص۱۲۶)
پیارے پیارے اسلامی بھائیو!یاد رکھئے کہ اَصْل مالداری یہ نہیں کہ انسان کے پاس کثیر مال و دولت ہو بلکہ اَصْل مالداری تو یہ ہے کہ اگرچہ مال کم ہو مگر اُس پر قناعت حاصِل ہو ، کیونکہ مال و دولت والا شخص ایسا مالدار ہے کہ اُسے کتناہی کثیرمال مِل جائے مگر مزید مال کی خواہش باقی رہتی اور اِس مال میں کمی بھی آتی رہتی ہے جبکہ قناعت کرنے والا شخص ایسا مالدار ہے کہ اُس کے پاس کتنا ہی کم مال کیوں نہ ہو مگر وہ مزید کی تمنّا نہیں کرتا نیز قناعت کی دولت میں کمی بھی نہیں آتی ، بہرحال قناعت عُمد ہ عادت ہے اور جسے نصیب ہوجائے وہ دُنیا و آخرت میں کامیاب ہے۔ آئیے قناعت کی رغبت اپنے دل میں پیدا کرنے کے لئے اِس ضمن میں چند رِوایات سُنتے ہیں :
حضرتِ موسیٰ کلیمُ اللہ عَلَیْہِ السَّلَام نے اپنے رَبّ کی بارگاہ میں عَرْض کی ، اے اللہ!تیرے بندوں میں سب سے زیادہ مالدار کون ہے؟اللہ پاک نے اِرشاد فرمایا : وہ شخص جو میری دی ہوئی چیز پر سب سے زیادہ قناعت کرنے والا ہے۔ ( ابنِ عساکر ، موسیٰ بن عمران بن یصھر بن قامث ، ۶۱ / ۱۳۹ ، رقم : ۷۷۴۱)
BOOK TOPIC
©Copyright 2026 by I.T. Department of Dawat-e-Islami