Share this link via
Personality Websites!
1۔ جو شخص اپنی دُنیا سے مَحَبَّت کرتا ہے وہ اپنی آخرت کو نُقْصان پہنچاتا ہے اور جو شخص اپنی آخرت سے مَحَبَّت کرتا ہے وہ اپنی دُنیا کو نُقْصان پہنچاتا ہے ، پس فنا ہونے والی (دُنیا)پر باقی رہنے والی (آخرت)کو ترجیح دو۔ ( مسند امام احمد ، حدیث ابی موسی الاشعری ، ۷ / ۱۶۵ ، حدیث۱۹۷۱۷)
2۔ حُبُّ الدُّنْیَا رَأسُ کُلِّ خَطِیْئَۃٍ یعنی دُنیا کی مَحَبَّت ہر گُناہ کی اَصْل ہے۔ ( موسوعۃ لابن ابی الدنیا ، کتاب ذم الدنیا ، الجزء الاوّل ، ۵ / ۲۲ ، حدیث۹)
3۔ یَاعَجَبًا کُلَّ الْعَجَبِ لِلْمُصَدِّقِ بِدَارِ الْخُلُوْدِ وَھُوَ یَسْعٰی لِدَارِ الْغُرُوْرِ یعنی اُس شخص پر بہت تَعَجُّب ہے جو ہمیشہ کے گھر (یعنی آخرت)کی تَصْدِیْق کرتا ہے حالانکہ وہ دھوکے والے گھر( یعنی دُنیا) کے لئے کوشش کررہا ہوتا ہے۔ ( مصنف ابن ابی شیبۃ ، کتاب الزھد ، باب ما ذکر عن نبینافی الزھد ، ۸ / ۱۳۳ ، حدیث۶۱)
4۔ اَحْرِصْ عَلٰی مَا یَنْفَعُکَ وَاسْتَعِنْ بِاللّٰہِ وَلَا تَعْجِزْ یعنی اُس چیز پر حرْص کرو جو تمہیں نفْع دے ، اللہ پاک سے مدد مانگو اور عاجز نہ ہوجاؤ۔ (مسلم ، کتاب القدر ، باب فی الامر بالقوۃ…الخ ، حدیث : ۲۶۶۴ ، ص۱۴۳۲)
شارحِ مُسْلِم حضرت علّامہ شَرَفُ الدِّین نَوَوِی رَحْمَۃُ اللّٰہ ِعَلَیْہ اِس آخری حدیثِ پاک کے تَحت لکھتے ہیں : یعنی اللہ پاک کی عبادت میں خُوب حرْص کرو اور اِس پر اِنعام کا لالچ رکھو مگر اِس عبادت میں بھی اپنی کوشش پر بھروسہ کرنے کے بجائے اللہ تعالیٰ سے مدد مانگو۔ (شرح نووی ، باب الایمان للقدر و الاذعان لہ ، الجزء : ۱۶ ، ۸ / ۲۱۵ملخصاً)
حکیمُ الاُمَّت مُفتی اَحمد یار خان رَحْمَۃُ اللّٰہ ِعَلَیْہ فرماتے ہیں : خیال رہے کہ دُنیاوی چیزوں میں قَناعت اور صبْر اچھا ہے مگر آخِرَت کی چیزوں میں حرْص اور بے صَبْری اعلیٰ ہے ، دِین کے کسی دَرَجہ پر پہنچ کر قناعت نہ کرلو آگے بڑھنے کی کوشش کرو۔ ( مرآۃ المناجیح ، ۷ / ۱۱۲)
سُبْحٰنَ اللہ!معلوم ہوا کہ ہر حرْص قبیح(بُری) نہیں بلکہ جو حرْص آخِرَت سے مُتَعَلِّـقَہ اُمور پر مَبْنِی ہو وہ قابلِ تعریف ہے ، نیز یہ بھی پتا چلا کہ انسان کتنی ہی نیکیاں کرلے مگر نیکیوں کی حرص میں کمی
BOOK TOPIC
©Copyright 2026 by I.T. Department of Dawat-e-Islami