Share this link via
Personality Websites!
تاریکی میں نوافِل پڑھو ، (اُس)بڑے دن میں کھڑے ہونے کا خیال کرتے ہوئے اچھی بات کہو اور بُری بات سے باز رہو ، قیامت کی دُشواری سے بچنے کی اُمّید پر اپنے مال سے صَدَقہ اَدَا کرو ، دُنیا میں دو (2)مَجْلِسیں اِختیار کرو ایک طلبِ حلال کے لئے اور دُوسری طلبِ آخرت کے لئے اِن کے علاوہ تیسری مَجْلس کا اِرادہ نہ کرنا کیونکہ وہ فائدے کے بجائے تمہیں نُقْصان پہنچائے گی۔ اِسی طرح مال کے دو حِصّے کر لو ، ایک حِصّہ اپنے اہل و عیال پر حلال طریقے سے خرچ کرو اور دُوسرا اپنی آخرت کے لئے آگے بڑھا دو(یعنی صَدَقہ کردو) ان کے علاوہ کوئی تیسرا حِصّہ نہ کرنا کہ وہ تمہیں فائدے کے بجائے نُقْصان پہنچائے گا۔ پھر بُلند آواز میں پُکارتے ہوئے اِرشاد فرمایا : اے لوگو! حرْص(سے بچو کہ اِس ) میں تمہارے لئے ہلاکت ہے ، تم حرْص کو کبھی پُورا نہیں کرسکتے ہو۔ (صفۃ الصفوۃ ، ابو ذر جُنْدُب بن جُنَادۃ ، الجزء : ۱ ، ۱ / ۳۰۱ ، رقم : ۶۴)
صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللہُ عَلٰی مُحَمَّد
پیارے پیارے اسلامی بھائیو!واقعی ہم میں سے ہر ایک کو آخرت کا طَوِیْل سَفَر درپیش ہے اور کامیابی سے منزلِ مَقْصُود تک پہنچنےکے لئے بطورِ زادِ راہ بکثرت نیک اَعمال کی ضرورت ہے ، اگر قیامت کے دن نیکیوں کا پلڑا بھاری ہونےکے لئے ایک بھی نیکی کم پڑ گئی تو ماں باپ ، بہن بھائی اور بیوی بچّوں میں سے کوئی بھی کام نہ آئے گا ، لہٰذا اگر حریص بننا ہی ہے تو نیکیوں کے حَرِیْصبننا چاہئےکہ ہمارے پیارے آقا ، مدینے والے مُصْطَفٰے صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ واٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے بھی وقتاً فوقتاً آخرت سے مَحَبَّت کرنے اور نیکیوں کا حَرِیْص بننے کی ترغیب اِرشاد فرمائی ہے۔ آئیے اِس ضمن میں چار (4)فرامینِ مُصْطَفٰے صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ واٰلِہٖ وَسَلَّمَ سُنتے ہیں :
BOOK TOPIC
©Copyright 2026 by I.T. Department of Dawat-e-Islami