Share this link via
Personality Websites!
بالآخر وہ رَنج و غم پاتا ہے۔ وقت ، صِحّت ، موسِم اور حالات کی پروا کئے بغیر اِس قدر خُون پسینہ بہانے کے باوُجود بھی اگر تمہاری رسائی مال و دولت اور دُنیاوی آسائشوں تک نہیں ہو سکی تو اُخروی نعمتوں اور آسائشوں تک تمہاری رسائی کس طرح ممکن ہے حالانکہ اس کے لئے تم نے کوئی محنت و کوشش بھی نہیں کی۔
صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْبِ! صَلَّی اللہُ عَلٰی مُحَمَّد
ہمیں بھی چاہئے کہ صرف دُنیا کی فکر کرنے کے بجائے جتنا قلیل عرصہ دُنیا میں رہنا ہے ، اتنی دُنیا کی فکر کریں اور جتنا طویل عرصہ قبر و آخرت کا ہے اتنی قبر و آخرت کی فکر کِیا کریں ، ہمارے اَسْلاف و بُزرگانِ دین دُنیا کی کم اور آخرت کی زیادہ فکر کِیا کرتے تھے اور دُوسروں کو بھی اِسی کی ترغیب دِلایا کرتے تھےجیساکہ
حضرت سُفیان ثَوری رَحْمَۃُ اللّٰہ عَلَیْہ فرماتے ہیں کہ حضرت ابو ذَر غِفَاری رَضِیَ اللہُ عَنْہُ نے کعبے کے پاس کھڑے ہوکر پُکارا : اے لوگو! میں جُندب غِفاری ہوں ، اِدھر آؤ اپنے خیر خواہ شَفِیْق بھائی کے پاس ، جب تمام لوگ اُن کے اِرد گِرد جمع ہوگئے تو آپ رَضِیَ اللہُ عَنْہُ نے اُن سے پوچھا : یہ بتاؤ کہ اگر تم میں سے کسی کا سَفَر کا اِرادہ ہو تو کیا وہ اپنے ساتھ زادِ راہ نہ لے گا جو اُسے کام آئے اور منزِلِ مَقْصُود تک پہنچادے؟ سب نے عَرْض کی : ہاں ، کیوں نہیں ، تو آپ رَضِیَ اللہُ عَنْہُ نے (اُنہیں دُنیا کی حرْص سے بچانے اور آخرت کی حرْص کی ترغیب دِلانے کے لئے نصیحت کرتے ہوئے) اِرشاد فرمایا : یقیناًسَفَرِ آخرت اُس سَفَر سے کہیں زیادہ طویل ہے جس کا تم (یہاں)اِرادہ کرتے ہو ، لہٰذا (اُس کے لئے )وہ چیزیں لے لینا جو تمہیں فائدہ دیں ۔ لوگوں نے پوچھا کہ وہ کیا چیزیں ہیں؟ آپ رَضِیَ اللہُ عَنْہُ نے فرمایا : عظیم مَقاصِد کے لئے حج کرو ، قیامت کے طویل دن کے پیشِ نظر سخت گرمی میں روزہ رکھو ، قبر کی وحشت سے بچنے کے لئے رات کی
BOOK TOPIC
©Copyright 2026 by I.T. Department of Dawat-e-Islami