Share this link via
Personality Websites!
ہوتا ہے اور نہ ہی بے رَغْبَتی کی وجہ سے کمی ہوتی ہے ، لہٰذا حرص سے بچتے ہوئے قناعت اِختیار کرنی چاہئے کیونکہ قناعت اختیار کرنے میں فائدہ ہی فائدہ ہے جبکہ حرص میں دُنیا و آخرت کا خسارہ ہی خسارہ ہے جیساکہ
بَلْعَم بِن باعُوْراء کی بربادی کا سب :
مکتبۃ المدینہ کی کتاب “ ملفوظاتِ اعلیٰ حضرت “ کے صفحہ نمبر 367پر ہے : (بَلْعَم باعُوراء)بنی اِسرائیل میں بہت بڑا عالِم تھا۔ مُسْتَجابُ الدَّعـوَات تھا(یعنی اُس کی دُعا قبول ہوتی تھی)لوگوں نے اُس کو بہت سا مال دِیا کہ (حضرت )موسیٰعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کے لئے بددُعا کرے۔ خبیث لالچ میں آگیا اور بَددُعا کرنی چاہی ، جو اَلفاظ (حضرت )موسیٰ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کے لئے کہنا چاہتا تھا ، اپنے لئے نکلتے تھے اللہنے اُس کو ہلاک کردِیا۔
پیارے پیارے اسلامی بھائیو! آپ نے سنا کہ بَلْعَم بن باعُوراء جوکہ اپنے دَور کا بہت بڑا عالِم اور عابِد و زاہِد تھا ، اِس کو اِسمِ اعظم کا بھی علم تھا ، یہ اپنی جگہ بیٹھا ہوا اپنی رُوحانِیَّت سے عرشِ اعظم کو دیکھ لِیا کرتا تھا ، مُسْتَجَابُ الدَّعـوَات تھا یعنی بارگاہِ الٰہی میں اُس کی دعائیں مقبول ہوا کرتی تھیں ، اُس کے شاگِرْدوں کی تعداد بھی بہت زیادہ تھی۔ مشہور یہ ہے کہ اُس کی دَرْس گاہ میں طُلَبائے عِلْمِ دِین کی دَوَاتیں (Ink)بارہ ہزار (12000)تھیں مگر آہ !اِس قدَر مقبولِ بارگاہ ہونے کے باوُجود مال و دَولت پانے کی حرْص نے بَلْعَم بن باعُوراء جیسے عابِد و زاہِد کو کہیں کا نہ چھوڑا ، حرص کی وجہ سے وہ بد بخت ، اللہ پاک کی نعمتوں کی ناشُکری کرتے ہوئے اُس کے پیارے نبی حضرت موسیٰ کَلِیْمُ اللہ عَلَیْہِ السَّلَام کے خِلاف بَد دُعا کرنےپر آمادہ ہوگیا ، نتیجۃً بارگاہِ الٰہی سے دُھتکار دِیا گیا ، اُس کی ساری عبادتیں ضائع ہوگئیں ، اُس کی وِلایت سَلْب ہوگئی اور ذِلَّت و رُسوائی اُس کا مُقَدَّر بن گئی۔ یہ حِکایت اُن لوگوں کے لئے زبردست تازِیانۂ عبرت ہے کہ جنہیں دِینی یا دُنْیَوِی مَنْصَب ملنے کے سبب مخلوقِ خُدا میں عزّت و شہرت اور خاص مقام و مرتبہ حاصِل ہوتا ہے مگر وہ اپنے رُتبے کا ناجائز فائدہ اُٹھاتے ہیں اور شرعی حُدود و قوانین سے تَجَاوُز کرتے
BOOK TOPIC
©Copyright 2026 by I.T. Department of Dawat-e-Islami