Share this link via
Personality Websites!
نہ کرنے پر گُنَاہ ہو۔ ([1]) مولانا رُوم رَحمۃُ اللہِ عَلَیْہ مزید فرماتے ہیں : دیکھو! آسمان ، زمین ، پہاڑ کیسی مضبوط اور عجیب مخلوقات ہیں ، انہوں نے جس امانت کا بوجھ نہ اُٹھایا ، وہ انسان نے اپنے ذمّے لیا ، اسی لئے آسمان وزمین اور پہاڑوں کے بجائے انسان کو عزّت بخشی گئی اور اسے اشرف المخلوقات بنایا گیا۔ ([2]) اللہ پاک اِرْشاد فرماتا ہے :
وَ لَقَدْ كَرَّمْنَا بَنِیْۤ اٰدَمَ (پ۱۵ ، بنى اسرائيل : ۷۰)
ترجمہ کنز العرفان : اور بیشک ہم نے اَوْلادِ آدم کو عزّت دی ۔
مزید فرماتے ہیں : اگر تم کہو! میں یہ ایک کام (یعنی عِبَادت) نہیں کرتا تو نہ سہی ، اَور بہت کام تو کرتا ہوں ، یاد رکھ! انسان اور کاموں کے لئے دُنیا میں نہیں آیا ، یہ تو ایسے ہے کہ تو (۱) : بہت قیمتی لوہے کی انمول تلوار جو صِرْف شاہِی خزانوں ہی میں ملتی ہے ، حاصِل کرے اور اسے گوشت کاٹنے کی چُھری بنا لے اور کہے : میں نے اسے بیکار نہیں رکھا (۲) : یا تُو سونے کی دیگ میں شلغم پکانے لگے حالانکہ اس دیگ کے ایک چھوٹے ٹکڑے سے کئی عام دیگیں خریدی اور پکائی جا سکتی ہیں (۳) : یا بہت قیمتی تلوار گھر کی دیوار میں گاڑھ لے اور اس پر ٹُوٹے ہوئے برتن لٹکائے ، کیا یہ افسوس کا مقام نہیں؟ برتن رکھنے کے لئے معمولی قیمت کی کھونٹی استعمال کی جا سکتی ہے ، اس کے لئے ایسی مہنگی تلوار اِسْتِعمال کرنا کیا عَقل کی بات ہے...؟؟ اے انسان! اللہ پاک نے تیری بڑی قیمت رکھی ہے ، اِرْشاد ہوتا ہے :
اِنَّ اللّٰهَ اشْتَرٰى مِنَ الْمُؤْمِنِیْنَ اَنْفُسَهُمْ وَ اَمْوَالَهُمْ بِاَنَّ لَهُمُ الْجَنَّةَؕ- (پ۱۱ ، التوبة : ۱۱۱)
ترجمہ کنز العرفان : بیشک اللہ نے مسلمانوں سے ان کی جانیں اور ان کے مال اس بدلے میں خریدلئے کہ ان کےلئے جَنّت ہے۔
BOOK TOPIC
©Copyright 2026 by I.T. Department of Dawat-e-Islami